گڈز ٹرانسپورٹ کی جزوی بحالی کے بعد دوبارہ ہڑتال حکومت سے مزاکرات ناکام

گڈز ٹرانسپورٹ کی جزوی بحالی کے بعد دوبارہ ہڑتال حکومت سے مزاکرات ناکام

پاکستان

لاہور۔ ڈیلی ٹائمز(فیاض مدثر)لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایک بار پھر گڈز ٹرانسپورٹ بند ایک روز قبل جزوی طور پر بحال ہونے کے بعد دوبارہ ہڑتال کی کال تاجر پریشان، مال کی ترسیل میں انتہائی مشکلات کا سامنا حکومت سے مزاکرات ناکام ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق جزوی طور پر بحال ہونے والی گڈز ٹرانسپورٹ سروس ایک بار پھر بند ہو گئی ہے۔

ایک ہفتہ ہونے کو ہے لیکن حکومت کے ساتھ مزاکرات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے پچھلے ہفتہ کو شروع ہونے والی ہڑتال کے تین چار روز بعد پنجاب حکومت کے نمائندوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن و دیگر متعلقہ رہنماوں کے ساتھ نشست کی۔

جس میں متفقہ طور پر کمیٹٰیاں تشکیل دی گئیں تاکہ معاملات کو آگے بڑھاتے ہوئے کوئی مستقل حل نکالا جا سکے اور اس کے ساتھ ہی گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے سروس بحال کرنے کا عندیہ دے دیا۔ جس پر کچھ سروس بحال ہونے لگی تاہم آج ایک بار پھر سے گڈز سروس بند ہو گئی ہے اور پنجاب بھر سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ سروس بند کر دی گئی ہے۔

جزوی بحالی میں بھی افراتفری کا عالم تھا مزدور گھروں کو جا چکے تھے گاڑیاں کم تھیں اور اڈوں پر تاجروں کا مال بکھرا ہوا پڑا رہا لیکن لیجانے کا مناسب بندوبست نہیں تھا اسی دوران اب پھر سے ہڑتال کی کال آنے پر تاجر برادری بھی شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے دور دراز کے تاجروں کا مال بڑے شہروں کے اڈوں پر ڈلیوری کے لیئے موجود ہے لیکن پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہیں

اور اب اڈے والوں نے مال کی بکنگ بھی بند کر دی ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مزاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہمارے مطالبات پورے نہیں کیئے گئے اور جیسے ہی ٹرانسپورٹ سڑکوں پر آتی ہے کئی طرح کے اہلکار گاڑیاں روکنے آجاتے ہیں بدتمیزی کے ساتھ ساتھ اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں مالی طور پر لوٹا جاتا ہے اس ماحول میں ہم کیسے سروس دے سکتے ہیں۔

لاہور میں اس وقت اڈے سنسان پڑے ہیں کوئی مال بلٹی نہیں ہو رہا بلکہ کئی دنوں سے پڑا ہوا سامان بھی خراب ہو رہا ہے اور ترسیل میں تعطل سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی زیادہ ہونے لگی ہیں۔ حکومت کو چاہیئے فوری طور پران سے مزاکرات کر کے مستقل لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ گڈز سروس والوں کے ساتھ ساتھ تاجروں اور عام صارفین کو بھی بروقت اشیا مل سکیں۔

Shares