سڈنی واقعہ میں دہشت گرد کو قابو کرنے والے ہیرو کی تفصیلات سامنے آگئیں

?سڈنی واقعہ کے ہیرو احمد الاحمد کون ہیں انکا تعلق کس ملک سے ہے

اہم خبریں

لاہور ڈیلی ٹائمز(ویب ڈیسک) سڈنی بونڈی بیچ دہشتگردی واقعہ میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور کو پکڑنے والے ہیرو احمد الاحمد کا تعلق کس ملک سے ہے؟ تین روز قبل آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر دہشتگردی کے واقعہ میں ایک مسلم نوجوان احمد الاحمد نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک مسلح حملہ آور کو دبوچ کر درجنوں معصوم افراد کی جان بچائی اور اس دوران وہ خود زخمی ہو گئے۔

احمد الاحمد کی اس دلیرانہ کارروائی پر دنیا بھر میں ان کی ستائش کی جا رہی ہے اور آسٹریلوی وزیراعظم نے انہیں قومی ہیرو قرار دے دیا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 43 سالہ احمد الاحمد کا تعلق ملک شام سے ہے اور ان کے رشتے دار اب بھی اس ملک میں مقیم ہیں۔

آسٹریلیا کے اس بدترین دہشتگرد واقعہ میں حملہ آور سے بندوق چھیننے کے مناظر جب ٹی وی پر چلے تو ہزاروں میل دور ملک شام کی ایک دکان پر بیٹھے کچھ افراد نے یہ شناسا چہرہ پہچان لیا کہ یہ ان کے اپنے ملک کا شہری احمد الاحمد ہے، کیونکہ وہ سڈنی میں مقیم ہے۔

احمد الاحمد جو تقریباً 20 سال قبل آسٹریلیا گئے تھے، ان کا تعلق شام کے شمال مغربی صوبے ادلب سے ہے، جو 14 سال خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ ٹی وی پر انہیں دہشتگرد کو قابو کرتے دیکھ کر سب سے پہلے ان کے چچا محمد الاحمد نے پہچانا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے احمد کے ان رشتے داروں سے گفتگو کی ہے، جو مذکورہ دکان پر بیٹھ کر یہ منظر ٹی وی پر دیکھ کر ان کی بہادری کے مظاہرے پر خوش تھے۔ محمد الاحمد نے بتایا کہ میں نے ٹی وی پر یہ منظر دیکھ کر اپنے بھائی (نوجوان کے والد) کو فون کیا تو وہ بھی ویڈیو دیکھ چکے تھے۔ ہمارے خاندان بلکہ پورے ملک شام کو ان کی بہادری پر فخر ہے۔

ان کے چچا کا کہنا تھا کہ ’احمد 2006 میں الیپو یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد آسٹریلیا گئے تھے اور اس کے بعد سے واپس نہیں آئے ان کے مطابق وہ جب بہت چھوٹے تھے اس وقت بھی بہت بہادر اور خوش مزاج تھے۔ شام میں ان کا دو منزلہ گھر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے اس میں کاٹھ کباڑ پڑا ہے اور دیواروں پر شیلنگ کے نشانات ہیں۔

بہادر احمد الاحمد کے کزن جن کا نام بھی محمد الاحمد ہے، نے روئٹرز کے نمائندے کو ان کا گھر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ احمد کے والد کا گھر ہے، یہ جنگ کے دوران تباہ ہو چکا ہے اس پر بہت بمباری ہوئی ان کے مطابق وہ دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیں گے کہ مسلمان جنگ کرنے والے نہیں بلکہ امن پسند ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی شہریت رکھنے والے احمد الاحمد کی دو بیٹیاں ہیں وہ اس وقت سڈنی کے اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ بونڈی بیچ دہشتگردی واقعے میں 16 افراد ہلاک ہوئے جن کی عمریں 10 سال سے 87 سال کے درمیان تھیں، جبکہ 42 افراد زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔گزشتہ روز آسٹریلوی وزیراعظم نے ان سے اسپتال میں ملاقات کر کے عیادت کی اور انہیں قومی ہیرو قرار دیا تھا۔

Shares