لاہور۔ بیوروچیف (فیاض مدثر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ممکنہ پیٹرولیم بحران کے پیش نظر صوبے میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔
حکومت کے فیصلے کے مطابق پیٹرولیم بحران کے دوران ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور نقل و حرکت محدود رکھنے کے لیے پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے تحت صوبے کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کل سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔
حکام کے مطابق تعلیمی اداروں کی بندش کے باوجود امتحانات پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اداروں کو آن لائن کلاسز کے انعقاد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے پیٹرولیم بحران کے دوران شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ای بزنس سروسز اور “مریم کی دستک” پروگرام کے تحت عوامی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی جائے گی، جس کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں حاضر ہوگا جبکہ بیشتر سرکاری امور آن لائن اجلاسوں اور ٹیلی کانفرنسز کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔
حکومت نے سرکاری سطح پر ہونے والی آؤٹ ڈور تقریبات پر بھی عارضی پابندی عائد کر دی ہے جبکہ معروف ثقافتی تقریب ہارس اینڈ کیٹل شو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور ذخائر کی مؤثر نگرانی کے لیے ضلعی سطح پر پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس سسٹم کی تیاری میں انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ پیٹرولیم بحران کے دوران ایندھن کی سپلائی اور استعمال پر مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ حکومت کے مطابق صرف اضافی سپورٹ اسٹاف کی آمدورفت محدود کی جا رہی ہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بنیادی کام معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔علاوہ ازیں وزرا کا پٹرول بند اور سرکاری افسران کا پچاس فی صد پٹرول کم کر دیا گیا ہے۔