عوامی سہولیات کی قربانی: کیا یہ سفارتی آداب کا تقاضا ہے؟بلاگز۔ فیاض مدثر

کالم/بلاگز

عوامی سہولیات کی قربانی: کیا یہ سفارتی آداب کا تقاضا ہے؟

ایرانی صدر کی حالیہ پاکستان آمد خوش آئند اور سفارتی لحاظ سے ایک اہم موقع تھا۔ دونوں اسلامی برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایسی ملاقاتیں ناگزیر ہیں۔ تاہم، اس خوش آئند دورے کا ایک افسوسناک پہلو بھی سامنے آیا جو عام پاکستانی شہری کے لیے تکلیف دہ تھا۔ لاہور میں واقع اورنج لائن ٹرین، جو ہزاروں شہریوں کے لیے روزمرہ سفر کا واحد سہارا ہے، صرف اس بنا پر بند کر دی گئی کہ غیر ملکی وفد کی نقل و حرکت میں کوئی “رکاوٹ” نہ آئے۔

یہ فیصلہ بظاہر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوامی سہولیات کو معطل کرنا واقعی واحد راستہ تھا؟ کیا کوئی متبادل انتظامات نہیں کیے جا سکتے تھے تاکہ سیکیورٹی بھی برقرار رہے اور عوام کو پریشان بھی نہ کیا جائے؟ اس واقعے نے ایک بار پھر ہمارے ریاستی نظم و نسق اور پبلک پالیسی کے بنیادی نقائص کو بے نقاب کر دیا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ: ایک عام شہری کی ریڑھ کی ہڈی

لاہور جیسے میٹروپولیٹن شہر میں جہاں ٹریفک کا نظام پہلے ہی دباؤ میں ہے، وہاں اورنج لائن جیسے منصوبے شہریوں کے لیے ایک نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں طلبہ، مزدور، سرکاری و نجی ملازمین اور خواتین اس ٹرین پر انحصار کرتے ہیں۔ چند گھنٹے کی بندش بھی ان کے معمولات کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ سڑکوں پر پہلے ہی ٹریفک کا ہجوم، مہنگائی اور گرمی میں سفر کی اذیت، مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔

ایرانی صدر کی آمد کے موقع پر نہ صرف اورنج لائن بند کی گئی بلکہ دیگر سڑکیں بھی بند کر دی گئیں، جس سے شہریوں کو گھنٹوں جام میں پھنسے رہنا پڑا۔ طلبہ امتحانات میں لیٹ ہوئے، مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکے، اور مزدور اپنی دیہاڑی سے محروم رہ گئے۔ کیا یہ سب صرف اس لیے کہ ایک وفد کو پروٹوکول دینا تھا؟ یہ بات قابلِ افسوس ہے کہ عوامی فلاح اور سہولت کو ہمارے حکمران سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔

کیا دنیا میں ایسا ہوتا ہے؟

اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو وہاں سربراہانِ مملکت کے دورے معمول کی زندگی کو متاثر نہیں کرتے۔ چاہے امریکی صدر ہو یا برطانوی وزیراعظم، وہ عوامی ٹرانسپورٹ، سڑکوں اور شہری سہولیات کو بند کیے بغیر اپنے دورے مکمل کرتے ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں، مگر شہری زندگی کو مفلوج نہیں کیا جاتا۔

مثال کے طور پر، لندن میں اگر کوئی غیر ملکی وفد آ رہا ہو تو ٹریفک کی روانی کو متاثر کیے بغیر سیکیورٹی پلان بنایا جاتا ہے۔ عوام کو پہلے سے مطلع کیا جاتا ہے اور متبادل راستے فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہاں عوامی سہولت کو اولیت دی جاتی ہے، نہ کہ حکومتی پروٹوکول کو۔

پاکستانی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ

ہماری حکومت کو یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم واقعی ایک ایسی ریاست بننا چاہتے ہیں جہاں عوام صرف حکمرانوں کی “سہولت” کے لیے قربانیاں دیتے رہیں؟ کیا یہی “ریاستِ مدینہ” کا تصور ہے جس کا بار بار حوالہ دیا جاتا ہے؟ اگر ریاستی فیصلے عوام کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنیں تو ایسے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا ضروری ہے۔

یہ درست ہے کہ غیر ملکی وفود کی سیکیورٹی ایک سنجیدہ معاملہ ہے، لیکن اس کا حل عوامی سہولیات کی بندش ہرگز نہیں۔ حکومت کے پاس جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، اور متبادل راستے اختیار کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں سستی اور غیر پیشہ ورانہ حکمرانی کا یہ عالم ہے کہ فوری اور آسان حل کے طور پر عوام کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عوام کا صبر کب تک آزمایا جائے گا؟

یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں عوام کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک طرف معیشت بدترین بحران کا شکار ہے، دوسری طرف عوام مہنگائی، بیروزگاری اور بدانتظامی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اب اگر ان کے لیے تھوڑی بہت سہولیات بھی سلب کر لی جائیں، تو مایوسی، غصہ اور بداعتمادی میں اضافہ ہی ہو گا۔

یہ وقت ہے کہ حکمران طبقات اور انتظامیہ اپنی ترجیحات پر غور کریں۔ سیکیورٹی کے نام پر اگر پبلک ٹرانسپورٹ بند کی جاتی رہے گی، تو عوام میں ریاست کے لیے محبت اور اعتماد ختم ہوتا چلا جائے گا۔ ایک باشعور، ترقی پذیر اور خوشحال پاکستان تبھی ممکن ہے جب عوامی مفاد کو ہر فیصلے کا مرکز بنایا جائے۔

نتیجہ

ایرانی صدر کا دورہ ایک اہم سفارتی موقع تھا، لیکن اس موقع پر کیے گئے انتظامات نے ثابت کر دیا کہ ہم ابھی تک عوامی فلاح کو اولین ترجیح دینے کا ہنر نہیں سیکھ سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ ایسے مواقع پر عوامی زندگی متاثر نہ ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک ناپسندیدہ روایت ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔

 

           بلاگر ۔ فیاض مدثر

       writerupwork786@gmail.com

Shares