سوشل میڈیا کا استعمال

پاکستان میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال – ایک خطرناک رجحان بلاگز۔ فیاض مدثر

کالم/بلاگز

پاکستان میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال – ایک خطرناک رجحان۔

سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ یہ صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں خیالات، خبریں، فن، تجارت اور تعلیم کا تبادلہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا نے عوام کو آواز دی، معلومات تک رسائی دی اور آزادیِ اظہار کو فروغ دیا۔ مگر بدقسمتی سے، جہاں ایک طرف یہ پلیٹ فارم مثبت سرگرمیوں کا گڑھ بن سکتا تھا، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کا غلط استعمال اب ایک معاشرتی، نفسیاتی اور سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جھوٹی خبروں (Fake News)، کردار کشی، سوشل بلیک میلنگ، سائبر بُلیئنگ، اور مذہبی و لسانی نفرت انگیزی نے اس پلیٹ فارم کو ایک ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ جب تک ہم اس رجحان کو سمجھ کر اس کا تدارک نہیں کریں گے، یہ ہماری نوجوان نسل، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا

سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ عام غلط استعمال جھوٹی خبریں پھیلانے کا ہے۔ بغیر کسی تصدیق کے خبریں، ویڈیوز یا تصاویر شیئر کر دی جاتی ہیں جن کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا یا کسی مخصوص گروہ یا فرد کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسی خبریں فسادات، ہنگاموں یا کسی کے خلاف جذبات بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی قابل مذمت ہے۔

کردار کشی اور ذاتی حملے

پاکستان میں مشہور شخصیات، خاص طور پر خواتین، سوشل میڈیا پر کردار کشی کا نشانہ بنتی ہیں۔ ذاتی تصاویر یا ویڈیوز کو ایڈٹ کر کے بدنامی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ اس کے ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خودکشی تک لے جا سکتا ہے۔ چند کیسز میں، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے الزامات کے تحت سوشل میڈیا پر بدنام کیا گیا، اور ان کی سماجی زندگی تباہ ہو گئی۔

مذہبی اور لسانی منافرت

پاکستان ایک کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ملک ہے۔ سوشل میڈیا پر مذہب، فقہ یا قومیت کی بنیاد پر نفرت انگیز گفتگو، فتوے اور طعن و تشنیع کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ لوگ مذہب یا مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو کافر، غدار یا دشمن قرار دینے لگے ہیں۔ یہ رویہ ملک کی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے اور معاشرتی تقسیم کو فروغ دیتا ہے۔

نوجوانوں پر منفی اثرات

پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو سب سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ جب وہ روزانہ جھوٹی خبروں، بے مقصد ٹرینڈز، فحش مواد اور نفرت انگیزی کا شکار ہوتے ہیں، تو ان کی ذہنی نشونما پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک نشہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے نوجوان پڑھائی، گھریلو ذمہ داریوں اور معاشرتی روابط سے کٹتے جا رہے ہیں۔ وقت کا ضیاع، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی میں کمی اس کا نتیجہ ہیں۔

سیاسی استعمال اور مہمات

سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا کو ایک میدانِ جنگ بنا دیا ہے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، مخالفین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے اور ٹرینڈز چلانے کے لیے جعلی اکاؤنٹس (bots) استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد صرف عوام کی رائے کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ انتخابات میں اثر انداز ہونے کے لیے جعلی معلومات، وائرل کلپس اور گمراہ کن بیانات شیئر کیے جاتے ہیں، جس سے جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے۔

حل کیا ہے؟

سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہمیں انفرادی، سماجی اور حکومتی سطح پر اقدامات کرنا ہوں گے:

  1. دیجیٹل تعلیم: تعلیمی اداروں میں “میڈیا لٹریسی” کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نوجوان سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے آگاہ ہو سکیں۔

  2. قوانین پر عملدرآمد: سائبر کرائم کے قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے اور جھوٹی خبریں یا نفرت انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

  3. ذاتی تربیت: ہر فرد کو چاہیے کہ وہ پوسٹ کرنے یا شیئر کرنے سے پہلے سوچے، تصدیق کرے، اور اگر مواد نفرت انگیز ہو تو اس کی ترسیل سے گریز کرے۔

  4. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری: پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) اور یوٹیوب کو چاہیے کہ وہ پاکستانی قوانین کے مطابق مواد کو فلٹر کریں اور جعلی اکاؤنٹس بند کریں۔

نتیجہ

سوشل میڈیا ایک طاقتور آلہ ہے، جس کا استعمال مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔ پاکستان جیسے حساس معاشرے میں اس کا غلط استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس رجحان کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی، بصورت دیگر یہ آگ ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو جلا دے گی۔ اب وقت ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر برتیں۔

       بلاگر۔ فیاض مدثر                                                                                    

Shares