آپ کا شوہر، آپ کا باپ
آج ان کی آواز بھرائی ہوئی تھی، بہت دکھی، پریشان اور لگتا تھا یہ وہ نہیں ہیں جو کبھی زندہ دلی سے میسجز یا فون کال کیا کرتے تھے، جس نے اچھا وقت دیکھا ہو معاشرے میں عزت وقار، بھرم ہو وہ ٹوٹنے لگے، فیملی ا سکی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہو اور اس کو کچھ دکھائی نا دے رہا ہو وہ کرے تو کیا کرے، پھر اس طرح لہجے اور آوازیں بھی دھیمی ہو جاتی ہیں
ملک صاحب میرے اسلام آباد کے اس زندہ دل صحافی اور کاروباری دوست کو مالی پریشانیوں نے کچھ اس طرح گھر لیا ہے کہ وہ مایوسی کے کنارے پہنچ گیا ہے۔ میں نے ہمت بندھائی اپنی مثالیں دیں انہیں کچھ حوصلہ ہوا دوبارہ بات کرنے کا کہہ کر کال کٹ کر دی اور میں اپنی روز مرہ زندگی اور ہم سب کے مجموعی لائف سٹائل بارے سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔
بیشتر کاروباری لوگ خاص کر درمیانے درجے کے شدید مندی سے بہت پریشان ہیں ، کسان پریشان، ملازمت پیشہ پریشان ہم سب مہنگائی کی دہائی دے رہے ہیں۔ بازار جائیں تو قیمتوں کے آگے عقل گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ آلو، ٹماٹر، دالیں، دودھ، سب کچھ مہنگا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، اسکول فیس، دوا— زندگی کا ہر پہلو جیسے ایک نہ ختم ہونے والا مالی امتحان بن چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود بھی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں یا صرف حکومتیں ہی؟
ایک مشاہدہ ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں، کہ مہنگائی سے زیادہ مسئلہ ہماری عادتوں کا ہے۔ ہم نے زندگی کو دکھاوا بنا لیا ہے۔ دن کو سونا، رات کو جاگنا، موبائل کے اسکرین پر بے مطلب گھنٹوں ضائع کرنا اور پھر آدھی رات کو “بھوک” کے بہانے آن لائن کھانے کا آرڈر دینا یہ ہماری روزمرہ کی عادت بنتی جا رہی ہے۔ یہ نہ صرف جیب پر بوجھ ہے بلکہ صحت پر حملہ بھی۔
یہ سب کچھ وقتی سکون ضرور دیتا ہے، لیکن مہینے کے اختتام پر جیب خالی ہونے پر جو کوفت ہوتی ہے، اس کا علاج نہ کوئی ایپ کرتی ہے، نہ کوئی ریسٹورنٹ۔
خواتین کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہتی ہے۔ یہ بات تلخ ضرور ہے، لیکن حقیقت ہے کہ اکثر گھروں میں خواتین خواہ مخواہ کی شاپنگ، “سیل” اور “برانڈز” کے چکر میں گھر کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ آج کے دور میں اکثر بیویاں شوہروں کی آمدنی کو دیکھے بغیر شوق پورے کرنے میں لگی ہیں۔ اگر کسی سہیلی نے نیا جوڑا خریدا ہے تو اگلے ہی دن وہی جوڑا “اپنے لیے بھی” لینا لازم سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی نے نئے جوتے پہنے، تو وہ بھی چاہیے۔گھر میں کھانا پکانے کا رحجان کم ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے خواتین ایک بار سالن بناتی تھیں دو وقت کھایا جاتا تھا۔ اب سب کو تازہ اور جو دوپہر کو کھایا شام کو وہ نہیں کھانا کچھ نیا چاہیئے۔
یہ سب کچھ ضرورت نہیں بلکہ دیکھا دیکھی ہے۔ مگر شوہر کی آمدنی محدود ہے۔ وہ ایک بندہ پورے گھر کا خرچ اٹھاتا ہے۔ اس میں بیوی، بچے، والدین، کبھی بہن بھائی سب شامل ہوتے ہیں۔ اور ان سب میں سے کوئی ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتا کہ وہ شخص خود کیا چاہتا ہے؟ کیا وہ خود کچھ خرچ کرتا ہے؟ خود اپنے لیے کچھ بچاتا ہے؟
بچے ایک الگ داستان ہیں۔ ان کی فرمائشیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ نیا فون، مہنگی چاکلیٹ، برینڈڈ جوتے، آن لائن گیمز ہر چیز “ابھی چاہیے”۔ باپ چاہے دن بھر مزدوری کرے یا دفتر میں دماغ جلائے، بچوں کے تقاضے ختم نہیں ہوتے۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ باپ کی جیب کتنی گنجائش رکھتی ہے۔ باپ نہ کرے تو وہ کنجوس، کرے تو “بس اتنا ہی؟
بہت سے مرد اس وقت جذباتی تھکن اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ اپنی خوشی، اپنی پسند، اپنے خواب سب کچھ قربان کرکے صرف ایک کوشش میں لگے ہیں — گھر والوں کو خوش رکھ سکیں۔ مگر اکثر یہ قربانی نظر نہیں آتی۔ نہ بیوی خوش ہوتی ہے، نہ بچے۔ الٹا شوہر کو ہی طعنے دیے جاتے ہیں: سب کچھ تو ہم خود کرتے ہیں، “آپ کی کمائی سے کیا ہوتا ہے؟
تو پھر وہ شوہر کیا کرے؟ وہ باپ کہاں جائے؟ وہ کب اپنے لیے جئے؟ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا۔ مہنگائی کو کوسنے سے پہلے اپنی زندگی کے اس غیر ضروری طرزِ زندگی پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ سادہ طرزِ زندگی، سمجھداری سے خرچ کرنا، خواہشات پر قابو رکھنا یہ سب وہ عناصر ہیں جو نہ صرف مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ گھریلو سکون بھی واپس لا سکتے ہیں۔ ایک فیملی کو بھی گھر کے سربراہ کا سوچنا ہوگا
یہ وقت ہے کہ ہم خواتین، مائیں، بہنیں، بیٹیاں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ شوہروں کی آمدنی کا لحاظ کریں، بچوں کو بچپن سے بچت کا شعور دیں، اور یہ سکھائیں کہ کمائی کرنا کتنا مشکل ہے۔ یہی شعور ہمیں اس اندھی دوڑ سے نکال سکتا ہے جس نے ہماری زندگی کو بےچینی اور ناقدری میں لپیٹ رکھا ہے۔
اگر ہم آج بھی نہ سنبھلے، تو صرف قیمتیں نہیں بڑھیں گی رشتے، محبت، عزت سب ختم ہوتے جائیں گے۔
کیا ہمیں صرف مہنگائی نے مار دیا ہے یا لائف سٹائل نے؟ اپنی خواہشوں کو محدود کیجیے، اپنی آمدنی کے مطابق جینا سیکھیے، اور اس شخص کو پہچانیے جو خاموشی سے سب کچھ سہتا ہے ۔ آپ کا شوہر، آپ کا باپ
