ایران نے امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار گرایا؟ وائرل ویڈیو فیکٹ چیک

ایران نے امریکی بی ٹو۔ بمبار گرایا؟ وائرل ویڈیو کے فیکٹ چیک نے حقیقت بتا دی

اہم خبریں

لاہور۔ ڈیلی ٹائمز۔ (مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک وائرل ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار کو ایران نے مار گرایا ہے۔ تاہم تازہ حقیقت جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ویڈیو ہے۔

اطلاعات کے مطابق 4 مارچ سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں بظاہر ایک تباہ شدہ امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار کو سڑک کے ذریعے ایران میں منتقل کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس وائرل ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے جنگی کارروائی کے دوران امریکی اسٹیلتھ بمبار کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک ایران حامی اکاؤنٹ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “ایران کا شکریہ جس نے واضح کر دیا کہ امریکہ اتنا طاقتور نہیں جتنا وہ دعویٰ کرتا ہے۔” اس پوسٹ کے بعد ویڈیو تیزی سے پھیل گئی اور ایران امریکہ تنازع کے حوالے سے عوامی دلچسپی کے باعث لاکھوں صارفین نے اسے دیکھا اور شیئر کیا۔

ویڈیو کی غیر معمولی مقبولیت کے باعث اس دعوے کی حقیقت جانچ کی گئی۔ تحقیق کے دوران مختلف بین الاقوامی، ایرانی اور امریکی میڈیا اداروں میں یہ جاننے کے لیے کلیدی الفاظ کی تلاش کی گئی کہ آیا واقعی ایران نے امریکی بی ٹو اسٹیلتھ بمبار کو مار گرایا ہے یا نہیں۔ تاہم کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے یا سرکاری ذریعے سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ملی۔

مزید تحقیقات کے لیے ویڈیو کو جدید مصنوعی ذہانت شناختی اوزاروں سے بھی جانچا گیا۔ تجزیاتی پلیٹ فارم ہائیو ماڈریشن کے مطابق یہ ویڈیو تقریباً 97.1 فیصد مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ویڈیو قرار دی گئی۔ اس نتیجے کے بعد واضح ہو گیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وائرل ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران امریکہ تنازع جیسے حساس معاملات میں اس قسم کی مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ ویڈیوز غلط معلومات پھیلانے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی سنسنی خیز دعوے پر یقین کرنے سے پہلے معتبر ذرائع اور مستند حقیقت جانچ ضرور دیکھیں۔

Shares