لاہور۔ ڈیلی ٹائمز بیوروچیف(فیاض مدثر) کینیڈین ہائی کمیشن، ڈیپارٹمنٹ آف ڈیجیٹل میڈیا، یونیورسٹی آف دی پنجاب اور لاہور پریس کلب کے اشتراک سے لاہور پریس کلب میں گزشتہ روز ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا
جس کا مقصد صحافیوں کو سائبر ہراسگی اور ڈیجیٹل میڈیا پر درپیش مختلف مسائل سے آگاہی فراہم کرنا، اُن کے ممکنہ خطرات کو اجاگر کرنا اور ان سے نمٹنے کے مؤثر اور عملی طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔
ورکشاپ کی ریسورس پرسن شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی تھیں، جنہوں نےصحافیوں کو ڈیجیٹل دور میں درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے جہاں صحافیوں کو اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کی ہے وہیں اسی پلیٹ فارم پر انہیں آن لائن ٹرولنگ اور ہراسگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا بھی ہے جن کے اثرات ان کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سویرا شامی نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صحافیوں کو اکثر آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ وہ بروقت اور درست اقدامات کریں، اپنی آن لائن اسپیس کو محفوظ بنائیں اور اپنی ڈیجیٹل بہبود کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کو مختلف نوعیت کے ایسے منفی اور توہین آمیز تبصروں کا سامنا رہتا ہے جو ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔انہوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ اگر کسی صحافی کو محسوس ہو کہ کوئی شخص سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسے ہراساں کر رہا ہے تو وہ فوری طور پر ایسے اکاؤنٹس کو بلاک یا رپورٹ کریں اور خود کو اس منفی ماحول سے دور رکھیں۔
ڈاکٹر سویرا شامی کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن ہراسگی سے بچنے کے لیے صحافیوں کو اپنے پرسنل اور پروفیشنل اکاؤنٹس الگ الگ رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بارہا ہیک کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں

اس لیے مضبوط پاس ورڈز اور حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ صحافیوں کے لیے حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے مکمل طور پر آف لائن ہونا ممکن نہیں، تاہم ذہنی دباؤ اور ہراسگی سے بچنے کے لیے ٹرولز کو میوٹ کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
ورکشاپ کے اختتام پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری اور پروفیسر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔اس موقع پر صدر لاہور پریس کلب نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایسی تربیتی سرگرمیاں صحافیوں کو جدید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بہت ضروری ہیں اور وہ ایسی مزید ورکشاپس کا انعقاد یقینی بنائیں گے۔