اسلام آباد ۔ ڈیلی ٹائمز(ویب ڈیسک) قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جس میں زیادہ بولیاں لگانے والے عارف حبیب گروپ اور لکی گروپ مدمقابل ہیں۔ عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے121ارب کی ساتویں بولی لگائی ہے جب کہ لکی گروپ نے 120.25 ارب کی ساتویں بولی دی ہے۔
لکی گروپ کی درخواست پر 30منٹ کا وقفہ دیا گیا ہے۔ قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نیلامی آج کی جا رہی ہے۔ صبح تین کنسورشیم کی جانب سے جمع کرائی گئی بولیوں کے سیل بند لفافے سب کے سامنے کھولے گئے اور یہ مرحلہ تمام چینلز براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے عارف حبیب گروپ نے سب سے بڑی 115 ارب روپے کی بولی دی ہے۔ لکی گروپ نے 101 ارب 50 کروڑ جب کہ ایئر بلیو نے 26 ارب 50 کروڑ کی بولی دی۔ لکی گروپ اور ایئر بلیو کو عارف حبیب گروپ سے زیادہ بولی دینے کے لیے وقت دیا گیا ہے۔ حکومت نےپی آئی اے کی نجکاری کیلئےریفرنس پرائس 100ارب روپےرکھی تھی۔
اس سے قبل پہلے مرحلے میں آج صبح لکی کنسورشیم نے سب سے پہلے بولی جمع کرائی۔ ایئر بلیو نے دوسرے نمبر پر جب کہ عارف حبیب گروپ نے تیسرے نمبر پر قومی ایئر لائن کی نجکاری کیلیے بولی جمع کرائی۔ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولیاں کھولنے کے وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کی جس کے بعد شام ساڑھے چار بجے بولیاں سب کے سامنے کھولی گئیں۔
نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت ہوں گے۔ بولی میں کامیاب کمپنی کو جرمنی، نیدرلینڈز اور بھارت میں پانچ پراپرٹیز بھی ساتھ ملیں گی۔ نجکاری میں شریک سرمایہ کاروں کو 2 ارب روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوں گے اور نجکاری کے بعد پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی فنانسنگ لازمی ہوگی۔
پی آئی اے کے خریدار کو نئے طیاروں پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ پی آئی اے کے واجبات کا معاملہ بولی کی تاریخ سے قبل حل ہو چکا ہے۔ بولیاں جمع کرائے جانے کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مشیر نجکاری محمد علی کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی پرائیوٹائزیشن کے پہلے مرحلے کا عمل مکمل ہو چکا۔ اب اب بولی پی سی بورڈ کے پاس جائے گی، اور پی سی بورڈ پی آئی اے کی ریزرو پرائس کا جائزہ لے گا۔
مشیر نجکاری نے کہا کہ پی آئی اے کی نیلامی کے لیے ریزرو پرائس کسی کو بھی نہیں معلوم۔ ریزرو پرائس بورڈ کی منظوری کے بعد کابینہ کمیٹی کو بھیجی جائے گی اور کابینہ کمیٹی ریزرو پرائس کی حتمی منظوری دے گی۔ یہ بہت بڑا مرحلہ ہے، بیس سال سے کوئی بڑی نجکاری نہیں ہوئی۔
اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں کابینہ نے پی آئی اےنجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی نجکاری کے آج کے فیصلوں کی توثیق کر دی