بین الاقوامی سیاست میں اصولوں سے زیادہ مفادات بولتے ہیں، اور مفادات کی اس بساط پر اکثر ایک ہی مؤقف مختلف ملکوں کے لیے مختلف معیارات سے پرکھا جاتا ہے۔ یہی دوہرا معیار آج کے عالمی منظرنامے میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی جنگ افغان حکومت سے نہیں بلکہ ان دہشت گرد عناصر سے ہے جو افغانستان کی سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں، خواہ وہ افغان طالبان ہوں یا پاکستانی طالبان۔ اور یہ موقف اپنی جگہ پر درست ہے ہر چیز کی حد ہوتی ہے اور اب ساری حدیں پار ہو گئیں تھیں۔
دوسری طرف ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی لڑائی خلیجی ممالک سے نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ سے ہے، ان امریکی اڈوں کو تارگٹ کیا جا رہا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک مؤقف پاکستان کے لیے درست مانا جاتا ہے تو وہی دلیل ایران کے لیے کیوں ناقابلِ قبول قرار پاتی ہے؟
پاکستان کئی برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کی جنگ کسی ریاست کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ اسلام آباد بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ کالعدم تنظیمیں اور شدت پسند گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ سادہ اور واضح ہے، ہمسایہ ملک اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، دہشت گردوں کی پشت پناہی نہ کرے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے۔ یہ وہی اصول ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کی صورت میں تسلیم شدہ ہے۔
پاکستان کا استدلال یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین سے دوسرے ملک پر حملے ہو رہے ہوں تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر پاکستان نے متعدد بار سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا یا محدود نوعیت کی کارروائیاں کیں۔ اس مؤقف کو عالمی سطح پر مکمل حمایت تو شاید نہ ملی ہو، لیکن اسے یکسر غیرقانونی بھی قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عالمی بیانیے میں عمومی قبولیت حاصل رہی ہے۔
اب منظر کے دوسرے حصے پر نظر ڈالتے ہیں۔ اگر ایران یہ کہتا ہے کہ اس کی جنگ خلیجی ممالک سے نہیں بلکہ ان امریکی تنصیبات سے ہے جہاں سے اس پر حملے کیے جا رہے ہیں، تو بظاہر اس کی دلیل بھی دفاعی نوعیت کی ہے۔ ایران یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ جب اس پر حملہ کیا جائے گا تو وہ حملہ آور کے مراکز کو نشانہ بنائے گا، چاہے وہ اڈے کسی تیسرے ملک کی سرزمین پر ہی کیوں نہ ہوں۔ یہاں بھی بنیادی دلیل وہی ہے: اپنی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع۔
لیکن جیسے ہی ایران اس مؤقف پر عمل کرتا ہے، خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہماری خودمختاری خطرے میں ہے۔ یہ اعتراض اپنی جگہ بجا ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست اپنی سرزمین پر حملہ برداشت نہیں کر سکتی۔ مگر اسی نقطے پر سوال اٹھتا ہے اگر ان ممالک نے اپنی زمین پر غیر ملکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی ہے، اور وہ اڈے کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، تو کیا وہ اس تنازع کا حصہ نہیں بن جاتے؟
یہاں افغانستان کی مثال ذہن میں آتی ہے۔ جب پاکستان یہ کہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے اس کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں تو وہ بھی یہی دلیل دیتا ہے کہ کابل حکومت کو اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔ اگر یہی اصول مان لیا جائے تو خلیجی ممالک پر بھی یہی سوال لاگو ہوتا ہے کہ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے کسی نہ کسی وقت ایران کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں؟ اگر وہ جانتے تھے تو کیا وہ غیرجانبدار رہ سکتے ہیں؟ یا شائد خلیجی بادشاہ، شہزادے رجیم چینج سے ڈرتے ہیں اور یہ ننگی تلوار پھر ان کے سروں پر منڈلاتی رہے گی
یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی سیاست کی منافقت عیاں ہوتی ہے۔ ایک ملک اپنے دفاع کے نام پر کارروائی کرے تو اسے سکیورٹی خدشات کا شکار ریاست سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسرا ملک وہی دلیل دے تو اسے جارح قرار دیا جاتا ہے۔ طاقت کے توازن، عالمی اتحادوں اور سفارتی مفادات کے مطابق بیانیے تشکیل پاتے ہیں۔ آج اگر امریکہ پاکستان کو اپنا دوست قرار دیتا ہے تو پاکستان کے سکیورٹی مؤقف کو نسبتاً نرم انداز میں لیا جاتا ہے۔ لیکن ایران، جو امریکہ کا حریف سمجھا جاتا ہے، اسی نوعیت کا استدلال پیش کرے تو اسے عالمی امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر اقدام جائز ہے یا ہر حملہ دفاعی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی اپنی حدود ہیں اور ہر ملک کو ان کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن اصولوں کی یکسانیت بھی ضروری ہے۔ اگر خودمختاری کا احترام ایک ملک کے لیے لازم ہے تو دوسرے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ اگر کسی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر کے خلاف کارروائی کرے، تو اسی اصول کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف ان پر جو عالمی طاقتوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔
عالمی نظام کی ساکھ اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب اصول طاقت سے بالاتر ہوں۔ ورنہ ہر ریاست اپنے مفاد کے مطابق قانون کی تشریح کرے گی اور دنیا طاقتور اور کمزور کے الگ الگ ضابطوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ پاکستان اور ایران کے معاملات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کی سرزمین کو پراکسی جنگوں کا میدان نہ بنائیں، اور عالمی برادری بھی ایک ہی معیار سب پر لاگو کرے۔
اگر آج اس دوہرے معیار پر سنجیدہ بحث نہ کی گئی تو کل ہر ملک اپنے دفاع کے نام پر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اصولوں کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، نہ کہ مفادات کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ کے الگ الگ پیمانے گھڑے جائیں۔ یہی بین الاقوامی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی خطے کے امن کی ضمانت بھی۔ موجودہ صورتحال میں مفادات کی بساط اور بین الاقوامی منافقت کی بہترین مثال آپ کے سامنے ہے کون کہتا ہے ہم مہذب ہو گئے ہیں۔
Fiaz Mudassar.WhatsApp. 03336974971
Email fiazmudassar@gmail.com
