ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے اہم مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی۔
لاہور۔ ڈیلی ٹائمز(ویب ڈیسک)بھارت کے 176 رنز کے جواب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور عثمان خان کے علاوہ کوئی بلے باز جم کر نہ کھیل سکا، انہوں نے 44 رنز کی مزاحمت کی۔ قومی ٹیم 18 اوورز میں 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی.
ہدف کے تعاقب میں اوپنرز اچھا آغاز فراہم نہ کر سکے اور پہلے ہی اوور میں صاحبزادہ فرحان بغیر کوئی رن بنائے چلتے بنے جس کے بعد اگلے اوور میں صائم ایوب صرف 6 رنز بنا کر بمراہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اسی اوور کی آخری گیند پر کپتان سلمان آغا بھی اونچی شارٹ کھیلتے ہوئے کیچ تھما بیٹھے۔
آوٹ آف فارم سینئر بیٹر بابراعظم کا تجربہ بھی کام نہ آیا جو ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 5 رنز بنا کر اکشاپٹیل کی گیند پر بولڈ ہو گئے
پاکستان کی جانب سے 7 بلے باز ڈبل فیگرز میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ شاداب خان 14، محمد نواز 4، فہیم اشرف 10، ابرار اور عثمان طارق صفر پر لوٹے جب کہ شاہین آفریدی 23 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے قبل کولمبو میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستانی کپتان نے ٹاس جیتا اور فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔
حیران کن طور پر سلمان علی آغا نے خود پہلا اوور کروایا اور ابھیشیک شرما کو صرف ایک رن پر چلتا کیا جس کے بعد ایشان کشن نے تلک ورما کے ساتھ مل کر جارحانہ انداز اپنایا اور صرف 27 گیندوں پر ففٹی بنائی۔
دونوں بلے بازوں نے تیزی سے رنز میں اضافہ کر کے اسکور کو مستحکم کرنے کی کوشش کی تاہم 88 کے مجموعے پر ایشان کشن وکٹ گنوا بیٹھے۔
کپتان سوریا کمار یادو اور تلک ورما نے محتاط بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو آگے بڑھایا اور پارٹنرشپ قائم کی جو خطرے کی علامت بننے لگی تو صائم ایوب نے 15 ویں اوور میں مسلسل دو گیندوں پر تلک ورما اور پانڈیا کی وکٹیں حاصل کر کے وقتی طور پر خطرے کو ٹال دیا۔۔
یہی وہ موقع بنا جب پاکستان ٹیم نے رنز کی رفتار کو روکا اور حریف بیٹرز پر دباؤ ڈالا۔ اگلے اوور میں سوریا کمار بھی آؤٹ ہوئے تو جارحانہ بیٹر شیون دوبے اور رنکو سنگھ نے اچھے اسٹروکس کھیلے اور مجموعے کو 175 رنز تک پہنچایا۔
بھارت نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 175 رنز بنائے جس میں ایشان کشن 77 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے جب کہ تلک ورما 25، سوریا کمار یادیو 32، پانڈیا صفر، شیون دوبے 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ رنکو سنگھ 4 گیندوں پر 11 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
ٹاس کے موقع پر سلمان علی آغا نے کہا کہ بھارت کیخلاف پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہم مقابلے کے لیے تیار ہیں ہمیں اندازہ ہے اس طرح کی پچ پر کیسے کھیلنا ہے۔
اس اہم میچ کے لیے پاکستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہ کرتے ہوئے وننگ کمبی نیشن کو برقرار رکھا ہے۔ قومی ٹیم کی پلیئنگ الیون میں بابر اعظم، صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، کپتان سلمان آغا، عثمان خان، شاداب خان، محمد نواز، فہیم اشرف، عثمان طارق، شاہین آفریدی اور ابرار احمد شامل ہیں۔
دوسری جانب، بھارتی ٹیم میں ابھیشیک شرما کی واپسی ہوئی ہے۔ بھارت کی حتمی الیون میں ابھیشیک شرما کے ساتھ ایشان کشن، تلک ورما، سوریا کمار یادو، ہاردک پانڈیا، شیوم دوبے، رنکو سنگھ اور اکشر پٹیل کو شامل کیا گیا ہے۔ بولنگ لائن اپ میں ورن چکرورتی، کلدیپ یادو اور جسپریت بمراہ ٹیم کا حصہ ہیں۔
شعیب ملک
شعیب ملک نے کہا کہ پاکستان کوٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے تھی سلمان علی آغا کے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ حیران کن ہے۔
شعیب ملک نے کہا کہ پہلے بیٹنگ کر کے چاہے جتنا بھی ٹوٹل ہوتا تو پریشر بھارتی ٹیم پر چلا جاتا، ہمارا اسپنگ اٹیک ایسا ہے کہ وہ ہدف کا دفاع کر سکتا تھا۔
کامران اکمل
سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے بھی فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنی چاہیے تھی، کپتان سوچ رہے ہوں گے کہ ڈیو فیکٹر ہو گا لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے جب بارش کی پیشگوئی ہو تو ڈیو نہیں پڑتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹاس سے جو فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا وہ ختم ہو گیا، پھر پچ نے سلو ہونا تو پاکستان کے پاس 6 اسپنر ہیں تو آپ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ پہلے بیٹنگ کریں جب کہ ہماری بولنگ مضبوط ہے بیٹنگ نہیں۔
تاریخی ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو ٹی 20 انٹرنیشنلز میں دونوں ٹیمیں 16 بار آمنے سامنے آچکی ہیں، جن میں سے بھارت نے 13 اور پاکستان نے 3 میچ جیتے ہیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں بھارت کا پلہ بھاری رہا ہے جہاں 8 مقابلوں میں سے بھارت نے 7 جبکہ پاکستان نے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی ہے۔