،،شہید عبداللہ طاہر سب کو رلا گئے،،

تحریر۔ مبشر نور کمیانہ

چوہدری محمد عبداللہ طاہر صاحب 29 جولائی 2026 کو اپنے شہر اوکاڑہ سے لاہور شہر اپنا میڈیکل چیک اپ کروانے گئے تھے۔ وہ کلینک کے اندر ڈاکٹر کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کا پیچھا کرنے والے 2 افراد نے کلینک کے

 اندر گھس کر بندوق کی گولیوں سے وار کر کے چوہدری عبداللہ طاہر صاحب کو شہید کر دیا۔

چوہدری عبداللہ طاہر کا آرائیں فیملی سے تعلق تھا۔ ان کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے تھا۔ ان کے والد صاحب اوکاڑہ کے معروف کاروباری شخصیت تھے۔ چوہدری عبداللہ طاہر کا اپنا کاروبار ریت کا تھا۔

عبداللہ طاہر

وہ دریاؤں سے ریت کا ٹھیکہ لیا کرتے تھے۔ وہ پنجاب گورنمنٹ کے "ریت” کے بہت بڑے ٹھیکیدار تھے۔ دن دگنی رات چگنی ترقی کر کے ارب پتی بن چکے تھے۔ انہوں نے اوکاڑہ شہر کے پاس اپنے گاؤں 32/2L میں تقریباً 40 ایکڑ یعنی تقریبا 300 کنال پر محل نما حویلی بنا رکھی تھی۔ عبدالله طاہر آرائیں دولت مند شخص تھے۔

اوکاڑہ شہر میں ان کا اپنا پٹرول پمپ تھا۔ سیاسی و کاروباری ملاقاتیں کرنے کے لیے اپنے شہر میں بہت ہی عالیشان "میزبان ریسٹورنٹ” بنایا ہوا تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ دولت کا کوئی حساب نہیں تھا۔ کچھ حاسدین نے 29 جولائی کی دوپہر ان کو لاہور شہر میں شہید کر دیا۔ پتہ چلا کہ کراۓ کے قاتلوں سے یہ کام کروایا گیا، قتل کی مختلف وجوہات بتائی جا رہی ہیں البتہ حقیقت کنفرم نہیں اب تک کہ عبداللہ طاہر کو ختم کرنے والے اصل لوگ کون ہیں۔ اتنی جائیداد، ورثہ، سب کچھ اچانک ختم۔

اس سے قبل بھی عبداللہ طاہر پر 2 قاتلانہ حملے ہو چکے تھے جن میں وہ محفوظ رہے جبکہ ان کے باڈی گارڈ مارے گئے ۔ یہ سچ ہے کہ اس سماج میں اگر آپ کے پاس بغیر کسی مضبوط بیک گراؤنڈ کے دولت آ جاۓ تو سمجھو اتنے حاسد اور دشمن بھی بن جاتے ہیں۔ کامیابی مکھیوں کی طرح حاسدوں کو attract کرتی ہے۔
پنجاب پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق قتل کیس کا مبینہ مرکزی ملزم نارووال کا رہائشی زمان عرف گوگی بٹ ہے جو کہ امریکہ میں مقیم ہے۔ وہ وہاں سے سارے حکم چلا رہا۔ "درجنوں کاروباری شخصیات کو قتل کروایا چکا ہے”۔ اس نے مبینہ طور پر شوٹرز کے ذریعے عبداللہ طاہر کو قتل کرایا۔
کیس کی تحقیقات کے دوران نیا رخ سامنے آیا کہ عبداللہ طاہر کا ڈرائیور اصغر کو مبینہ طور پر 22 سالہ حسین و جمیل ٹک ٹاکر لڑکی نے ٹریپ کیا۔ شوٹر ارسلان بٹ نے مذکورہ ٹک ٹاکر کو ہائر کیا تھا اور قتل کا منصوبہ چار ماہ سے بنا رہے تھے۔ عبداللہ کو ختم کرنے کے عوض ان دونوں کو 22 کروڑ روپے دئیے گئے تھے۔

چوہدری عبداللہ طاہر کے قتل کے بعد ان کا بیٹا احسان اللہ طاہر کا بیان سامنے آیا ہے کہ چند روز قبل لاہور میں ایک پولیس اہلکار کو شہید کیا گیا تو پولیس نے انتہائی تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ملزم تک رسائی حاصل کر لی۔ تو میرے والد کے قاتلوں تک بھی اسی تیزی سے نہیں پہنچا جا سکتا؟ کیا میرے والد اس ملک کے شہری نہیں تھے کہ انہیں بھی فوری انصاف مل سکے؟

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ میرے والد کا قتل نارووال میں ریت کے کسی ٹھیکے یا بولی کے تنازع کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق ان کے والد نے متعلقہ بولی میں حصہ ہی نہیں لیا تھا، لہٰذا جب وہ اس مقابلے میں شامل ہی نہیں تھے تو پھر اس بنیاد پر دشمنی اور قتل کی بات کیسے درست ہو سکتی ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر میرے والد کے خلاف جھوٹا پروپیگینڈا کر رہے تاکہ اصل قاتلوں تک نا پہنچا جا سکے۔ ریت کے ٹھیکے سے متعلق باتوں کو سامنے لا کر معاملے کو دوسری سمت موڑنے کی کوشش کی گئی تاکہ عوام کی توجہ اصل محرک اور ان لوگوں کی طرف نہ جائے جنہوں نے خفیہ منصوبہ بندی سے میرے والد کو قتل کیا ۔ اصل قاتل کوئی اور ہیں اور اب اس کیس کا رخ زمان گوگی اور ریت کے ٹھیکے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔

عبداللہ طاہر نے الیکشن 2018 میں عمران خان کی حمایت میں اپنے شہر اوکاڑہ میں حلقہ پی پی 188 سے ایم پی اے کا الیکشن بھی لڑا تھا۔ ان کا پہلی بار سیاست میں آنے سے ضلع اوکاڑہ کی سیاست میں بھونچال آ گیا تھا۔ کیونکہ اوکاڑہ کی عوام عبداللہ طاہر سے بےگناہ محبت رکھتی تھی۔ وہ اپنے مخالف "یاور زمان” (مسلم لیگ ن) سے صرف 2 ہزار ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ اپنے حلقہ میں 52 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ وہ عمران خان کے حمایتی تھے۔ تحریک انصاف کو سپورٹ کرتے تھے۔

عبداللہ طاہر نے اوکاڑہ میں عمران خان کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا۔ تمام کھلاڑیوں کو عمران خان کی تصاویر والی ٹی شرٹس پہنا کر پورا اسٹیڈیم عمران خان کے نام سے بھر دیا۔ بے شک عبداللہ طاہر اوکاڑہ کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ وہ ایک اچھے سیاستدان ذہین اور عقلمند شخص تھے۔

اوکاڑہ کی عوام کو عبداللہ طاہر کی بات پر اتنا یقین ہوتا تھا کہ وہ لوگ اپنے مسائل کا حل اور اپنے فیصلے عبداللہ طاہر کی حویلی میں جا کر کراتے تھے۔ عبداللہ طاہر ہزاروں ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد کرتے تھے۔ ہزاروں افراد کو نوکری پر رکھا ہوا تھا جو عبداللہ طاہر کی "الرحمت ٹرانسپورٹ کمپنی” میں ملازمت کرتے تھے۔ ہزاروں لوگوں کے رزق کا زریعہ بننے والا شخص دنیا سے چلا گیا۔ یہ سچ ہے کہ اب اوکاڑہ کی عوام ایک ہمدرد دوست سے محروم ہو گئی۔

عبداللہ طاہر کی زندگی کا ایک اہم راز یہ ہے کہ وہ اپنی حویلی میں میلاد شریف محفل نعت بڑے شوق سے منعقد کرایا کرتے تھے اور باقاعدہ سٹیج پر کھڑے ہو کر نعت خواں کے ساتھ برابر نعت پڑھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ہزاروں ضرورت مند افراد کی مدد تو کرتے تھے لیکن عبداللہ طاہر کی والدہ تک کو بھی علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کتنے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

ان کے گاؤں سے ایک شخص عبداللہ طاہر کے پاس گیا۔ دکھ کے عالم میں عبداللہ طاہر سے کہا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں میری بیٹی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ آپ اس کے اخراجات اٹھا لو۔ آپ کا احسان ہو گا۔ عبداللہ طاہر نے ان کی بیٹی کو سکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک کے تمام اخراجات ادا کیے اور ان کو محسوس تک نا ہونے دیا کہ وہ لوگ کسی کے محتاج ہیں۔ آج وہی لڑکی فرانس کے شہر پیرس میں ایک بہترین جاب کر رہی ہے۔ عبداللہ طاہر ایسے ہمدرد انسان تھے۔ سبحان اللہ ۔

عبداللہ طاہر ایک کامیاب بزنس مین ایک اچھا اور صاف سیاستدان تھے۔ نا ان کی زات پر کوئی داغ دھبہ ہے نا وہ ایسے تھے۔ وہ ہر ایک فرد سے ہاتھ ملا کے ہنس کر سلام کرتے تھے۔ ہر چھوٹے بڑے فرد کو خوشی سے گلے ملتے تھے۔

نس مُکھ مزاج رکھتے تھے۔ بازار میں راہ جاتے بزرگ مرد و خواتین بھی گزرتے ہوئے عبداللہ طاہر کو سر پہ پیار دیتے تھے۔ عبداللہ طاہر کی یہ عادت تھی کہ وہ پیدل جاتے ہوئے ہر خاص و عام شخص سے ہاتھ ملاتے جاتے تھے۔ ان میں اکڑ غرور تکبر جیسا عنصر نہیں تھا۔ وہ خالص اللہ کا بندہ تھا۔
عبداللہ طاہر مال و دولت بنگلے کوٹھیوں کا مالک تھا لیکن اس سب کے باوجود بھی اس شخص نے کبھی غرور تکبر جیسا رویہ نہیں اپنایا۔ وہ خوش اخلاق نرم مزاج طبعیت کا مالک تھا۔ وہ اللہ کا نیک بندہ تھا۔ جلدی اپنے اللہ کے پاس چلا گیا۔ عبداللہ طاہر جیسا ہمدرد نیک انسان نا کوئی اوکاڑہ میں پیدا ہوا ہے نا کوئی پیدا ہو گا۔

اوکاڑہ کی عوام کے بقول چوہدری محمد عبداللہ طاہر ایک فرد واحد نہیں ایک مسیحا، نیک صفت، غریب پرور، پیار کرنے والا انسان تھا۔ جس نے ہر ایک سے بھائیوں جیسا پیار اور ہمدردی رکھی۔ اکثر اوقات کبھی کوئی کہتا کہ آپ اکیلے ہو کوئی اور بھائی نہیں تو سامنے بیٹھے افراد کی طرف ہاتھ کر کے کہتا تھا کہ یہ سب میرے بھائی ہیں یہ ہر وقت میرے ساتھ ہیں یہ سب میری آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

اب ہم ان لوگوں کے جذبات دیکھتے ہیں جنہوں نے میرا خیال شاید زندگی میں ان سے ملاقات نہ کی ہو ان کے ساتھ وقت نہ گزارا ہو بس سوشل میڈیا پر دیکھا سنا ہو ان کی کیفیت بہت افسردہ اور غمگین ہے بلکہ ہمارے علاقے کی ساری فضا ہی سوگوار ہے۔ اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی ہر طرف اداسی اور سوگ کی فضا ہے۔

 جنہوں نے زندگی کا ایک بڑا عرصہ ان کے ساتھ گزارا اس کے ساتھ رہے ، ہم نے اس کی شفقت دیکھی ، محبت دیکھی، پیار دیکھا ، ساتھ دیکھا، بھروسہ اور اعتماد دیکھا، جب کبھی بھی بات ہونی تو نام کے ساتھ بھائی کہنا یہاں تک کہ ہماری پہچان کے لیے زیادہ تر لوگ کہتے تھے کہ یہ چوہدری عبداللہ طاہر کی ٹیم ہے یا چوہدری عبداللہ طاہر کے نمائندے ہیں۔

یقیناً ہم ایک بہت بڑے محسن سے محروم ہوئے ہیں۔ اس صدمے کے بعد اپنے جذبات کو بیان تو نہیں کر سکتے۔ بس دعا کرتے ہیں اللہ تعالی ان کی ساری فیملی کو صبر جمیل دے ان کی حفاظت فرماۓ حاسدین، منافقین، شر پسندوں سے بچاۓ۔

چوہدری عبداللہ طاہر کی شہادت کے بعد ان کی بیٹی کا بیان بھی سامنے آیا جو کہ ایک رُلا دینے والا بیان تھا. جس میں انہوں نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کبھی مجھے ایسے کیمرے کے سامنے آنا پڑے گا۔ میرے بابا زندہ ہوتے تو کبھی ایسا نہ کرتی ، مگر میں تو یتیم ہو گئی ہوں۔ میرے جیسی اور بیٹیاں اپنے باپ بھائیوں کے سائے سے محروم نہ ہوں اس کے لیے مجھے حکومت اور اداروں سے انصاف چاہیے ۔

چوہدری محمد عبداللہ طاہر کی وفات پر ان کی والدہ صفیہ بی بی کی استقامت اور صبر کی ایک دردناک داستان۔ عبداللہ طاہر کو گولی لگنے کی اطلاع ملتے ہی ان کی والدہ صفیہ بی بی اپنی بیٹیوں اور ڈرائیور کے ہمراہ اوکاڑہ سے لاہور روانہ ہوئیں۔ دورانِ سفر فون پر انہیں اپنے بیٹے کے انتقال کی خبر دی گئی۔۔

 اندوہناک اطلاع سن کر انہوں نے انتہائی صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف "إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” پڑھا اور خاموش رہیں۔ سارا سفر خاموشی سے طے کر لیا۔ سبحان اللہ ۔ کیا صبر و استقامت ہے عبداللہ طاہر کی والدہ صاحبہ کا۔ ایک جوان گھبرو بیٹا سرعام قتل ہو گیا اور ماں نے زرا بھی چیخ و پکار نا کی نا کوئی زور سے آواز نکالی۔ بس ذکر و اذکار اور اپنے اللہ سے رابطہ میں رہی۔ سبحان اللہ۔

عبداللہ طاہر کی والدہ کا کہنا ہے کہ انہیں جلدی انصاف نہیں چاہیے۔ کسی بےگناہ کو پکڑ کر نا مار دینا۔ انہیں اپنے رب پر پورا یقین ہے کہ میرے بیٹے کا انصاف ضرور ہو گا۔ وہ پُرامید ہیں کہ اس واقعے میں جو بھی ذمہ دار ہے، وہ قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچے گا۔

عبداللہ طاہر اپنے پیچھے ایک بھرپور خاندان چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی سات بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، جو آج اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی والدہ اب اس خاندان کی ڈھارس اور سہارا ہیں، اور یقیناً پوری فیملی اس عظیم صدمے کے باوجود ایک دوسرے کا حوصلہ بننے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ سچ ہے کہ عبداللہ طاہر ایک نیک ہمدرد نسلی اور اصلی انسان تھے۔ ہزاروں خاندانوں کی مدد کرتے تھے۔ نسلی اور اصلی کا اندازہ نماز جنازہ سے سب کو پتہ چل گیا ہے۔ ہزاروں افراد نے جنازہ میں شرکت کی۔ ہر خاص و عام بوڑھا چھوٹا بڑا سبھی لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے کیونکہ ان کی مدد کرنے والا ان کی خبر گیری کرنے والا ان کا خیال رکھنے والا نا رہا۔

آرائیں قوم اک پڑھی لکھی مہذب اور بہادر قوم ہے اگر کسی کو دشمنی کا بدلہ لینا تھا تو وہ سامنے سے وار کرتا۔ ایسے گھٹیا طریقے سے وار بھی بد نسل انسان ہی کرتے ہیں۔ اگر وہ کوئی مجرم کریمنل شخص ہوتا تو ہزاروں افراد اس کے جنازہ میں نا جاتے۔

عبداللہ طاہر کی شہادت کے بعد اوکاڑہ کی عوام خود کو یتیم قرار دے رہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ عبداللہ طاہر کے بعد ہماری زندگی بیزار ہو گئی ہے۔ ہمارا جینے کا وجود ہی نہیں رہا۔ وہ ہمارا سچا اور مخلص دوست تھا۔ ہمارا سہارا تھا۔ ہماری مدد کرتا تھا۔ ہمارے حال احوال پوچھا کرتا تھا۔ اب اس جیسا سخی دل کا مالک ہمدرد انسان اوکاڑہ کی سرزمین پر دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہو گا۔

ہائے افسوس کہ وہ بیچارہ تو اپنے ملک میں رہ کر خوش تھا کہ وہ اپنے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ عوام اس سے خوش ہے۔ وہ اپنے ملک میں رہ کر پیسہ کما کر اپنے ہی ملک میں لگا رہا ہے۔ وہ چاہتا تو بیرون ملک شفٹ ہو کر سکوں کی زندگی گزارتا لیکن اس نے بھی عمران خان کی طرح اپنے ہی ملک میں رہنے کو ترجیح دی اور اپنے حاسدین اور دشمنوں کے سامنے سینہ تان کر جی کر دکھایا۔

عبداللہ طاہر کی تاریخ پیدائش 31 جولائی 1985 اور تاریخ وفات 29 جولائی 2026 ہے۔ وہ صرف 41 سال کی عمر میں ہی اپنے اللہ کو پیارے ہو گئے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم عبداللہ طاہر کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کی والدہ، بچوں اور تمام عزیز و اقارب کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و ہمت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر۔ مبشر نور کمیانہ

Shares