اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود نے اسلام آباد میں والد کی رہائش گاہ پر تجاوزات سے متعلق سی ڈی اے کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے انتقامی کارروائیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
اسلام آباد۔ ڈیلی ٹائمز( ویب ڈیسک)مولانا اسجد محمود کا کہنا ہے کہ پشاور میں کور کمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشاندہی کرنے کے بعد انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ ان کے مطابق جب مخالفین کو نشاندہی کا کوئی جواب نہ ملا تو وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی گارڈ کا کیبن ہٹانے، جنریٹر منتقل کرنے اور اضافی کچن کی تعمیر پر بھی اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا تشویش ناک ہے۔مولانا اسجد محمود نے جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کو حالات سے باخبر اور بیدار رہنے کی ہدایت بھی کی۔
دوسری جانب سی ڈی اے نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر مبینہ غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کی نشاندہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کیا ہے۔ نوٹس میں 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ تجاوزات ختم نہ کرنے کی صورت میں عمارت سیل یا غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
سی ڈی اے نے یہ نوٹس عمارت کے مالک امان اللہ محمد یونس کے نام جاری کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق اس سے قبل 18 مارچ 2019ء کو بھی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔
