پاکستان میں موجودہ تعلیمی اور خاندانی نظام کا بڑا المیہ

پاکستان میں موجودہ تعلیمی اور خاندانی نظام کا بڑا المیہ

تحریر محمد نواز۔

پاکستان میں موجودہ تعلیمی اور خاندانی نظام کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کا مرکز صرف "ڈگری اور نوکری” یا زیادہ سے زیادہ کمائی بن کر رہ گیا ہے جبکہ ایک بہترین، تعمیری اور متوازن شخصیت (Ideal Personality) کی تعمیر کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
اس سنگین صورتحال کی چند بڑی وجوہات اور اس کے نقصانات درج ذیل ہیں

1. مادی سوچ اور معاشرتی دباؤ (Materialistic Mindset)

معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف بینک بیلنس، بڑی گاڑی اور اچھے گھر کو بنا دیا گیا ہے۔ والدین بچپن سے ہی بچے کے ذہن میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ تمہیں پڑھ لکھ کر صرف "پیسہ کمانا” ہے، جس کی وجہ سے بچہ علم کو شعور کے لیے نہیں بلکہ صرف دولت کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

2. تعلیمی نظام کا نقص (Flawed Education System)

ہمارا تعلیمی نظام "رٹا سسٹم” پر مبنی ہے جو بچوں کو صرف امتحانات پاس کرنا اور اچھے نمبر لینا سکھاتا ہے۔ یہ نظام نوجوانوں کو
 تعمیری اور تنقیدی سوچ (Critical Thinking) نہیں سکھاتا۔
 اخلاقی تربیت اور کردار سازی (Character Building) پر توجہ نہیں دیتا۔
تخلیقی صلاحیتوں (Creativity) کو ابھارنے کے بجائے انہیں ایک ہی سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔

3. ذہنی صحت کے مسائل اور مایوسی

جب نوجوانوں کو صرف کمائی کی مشین سمجھا جاتا ہے، تو وہ مسلسل ایک ذہنی دباؤ (Stress) کا شکار رہتے ہیں۔ اگر وہ کسی وجہ سے زیادہ پیسہ کمانے میں ناکام ہو جائیں، تو وہ خود کو ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں، جو کہ شدید مایوسی (Depression) کا سبب بنتا ہے۔

4. ایک "آئیڈیل شخصیت” کے بنیادی عناصر جن کی کمی ہے

حقیقی کامیابی صرف مال و دولت کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک بہترین انسان بننے کے لیے درج ذیل چیزیں ضروری ہیں
 مقصدِ حیات (Purpose of Life): صرف اپنے لیے نہیں بلکہ انسانیت اور معاشرے کے لیے کچھ تعمیری کرنے کا جذبہ۔
 جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence): رشتوں کو نبھانا، صبر و شکر اور دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا۔
خود اعتمادی اور اخلاقیات: سچائی، ایمانداری اور محنت کو اپنا شعار بنانا۔
یہ سوچ بدلنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہم صرف "ملازمین” پیدا نہ کریں، بلکہ ایسے "لیڈرز” اور تعمیری ذہن پیدا کریں جو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکیں۔ اور اخلاقیات و تعمیری سوچ کا محور قرآن مجید کو سمجھنا صروری ھے

Shares