جماعت اسلامی نے سپر لانگ مارچ روک دیا آخر کیا مجبوری بن گئی تھی ؟

جماعت اسلامی نے سپر لانگ مارچ روک دیا آخر کیا مجبوری بن گئی تھی ؟

جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ عارضی طور پر موخر عوام کا ملا جلا رد عمل سامنے آگیا سوشل میڈیا پر طنز اور ٹرولنگ کا سامنا

 لاہور۔ ڈیلی ٹائمز۔بیوروچیف( فیاض مدثر)جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی درخواست پر ہم نے عارضی طور پر سپر لانگ مارچ روک دیا ہے ملتان میں ہی ڈیرے لگائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی درخواست پر ہم نے عارضی طور پر سپر لانگ مارچ روک دیا ہے  ختم نہیں کیا   اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ہم انتظار کریں گے اس کے بعد اگر ہمارا مطالبہ جو کہ خالصتا عوام کا مطالبہ ہے پٹرول پر لیوی کا فوری طور پر خاتمہ  اگر ناہواتو ہمارا لانگ مارچ پھر جاری ہوجائے گا۔

تاہم اس دوران ہمارا احتجاج ، دھرنےاورعوام کے ساتھ رابطہ میں اسی طرح  شدت بدستور رہے گی ہم نے اس کو ختم نہیں کیا بلکہ عارضی طور پر وزیراعظم کی درخواست پر کچھ دنوں کے لیے روک دیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آئیں اور ہمارے مذاکرات میں شامل ہوں اور ملک کی مفاد میں اگر بہتر فیصلہ ہوا تو ہم اپنا لانگ مارچ ختم کر دیں گے لیکن اگر مطالبہ تسلیم نہ ہوئے تو پھر ہمارا لانگ مارچ دوبارہ شروع ہوگا۔

اس پریس کانفرنس کے بعد عوام کا ملا جلا  رد عمل دیکھنے میں اآرہا ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹرول 280 روپے تھا اور لیوی کی بات کر کے انہوں نے 400 تک پہنچا دیا اور اب لانگ مارچ ختم کر دیا ہے لوگ طنزیہ طور پر جماعت اسلامی کوالزام دے  رہے ہیں دوسری جانب سنجیدہ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جماعت اسلامی نے یہ غلط فیصلہ نہیں کیا نہ انہوں نے ختم کیا ہے

بلکہ اگر حکومت نے ان کو خصوصی درخواست کی ہے کچھ دنوں کے لیے مہلت مانگی ہے یا کئی اور مجبوریاں ہیں تو حکومت کو ٹائم دینے میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم نوجوان نسل نے سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا ہے اور ان کو ٹرولنگ کا بھی سامنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے  کہ ایک طرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اور احتجاج سر پر ہے دوسری جانب جماعت اسلامی کا  سپر لانگ مارچ حکومت کے لیے دونوں  جماعتوں سے  نمٹنا بہت مشکل تھا حکومتی پالیسی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جماعت اسلامی کو سائیڈ پہ کر کے ساری توجہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے پر دی جائے ۔

دونوں جماعتوں کو ایک ہی ٹائم میں سنبھالنا حکومت کے لیے بھی بہت مشکل تھا اب اس کو صرف پی ٹی آئی سے نپٹنا ہے جس کے لیے وہ کسی بھی انتہائی قدم پر جا سکتی ہے ۔


فیاض مدثر

ای میل : fiazmudassar@gmail.com

سینئر صحافی ہیں ڈیلی ٹائمز سے وابستہ ہیں۔

 بیوروچیف لاہور کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

قارئین کو اگر رابطہ ، کی ضرورت ہو تو ان سے ای میل یا واٹس پر رابطہ کریں 03336974971

Shares