پاکستان نے سرحد پار سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد افغان طالبان کے خلاف آپریشن ’’غضبُ اللحق‘‘ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں عمل میں لائی گئی۔
پاکستان ائیر فورس نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ کارروائی کے دوران دارالحکومت کابل، قندھار اور صوبہ پکتیا میں مبینہ عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان طالبان حکومت نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ مقامات پر فضائی کارروائی کی گئی۔
ملک کی سیاسی قیادت نے مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری وزیرِ اعظم شہباز شریف اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی اور علاقائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کو انڈیا کی کالونی‘‘ میں تبدیل کر رہی ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی برآمد کرنے کے لیے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
ادھر پاک افغان سرحدی کشیدگی پراہم پیش رفت کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آج سہ پہر چار بجے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، جس میں موجودہ حالات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔