ٹرمپ کے دباؤ پر برطانیہ کا دوٹوک انکار، ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان

ٹرمپ کے دباؤ پر برطانیہ کا دوٹوک انکار، ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان

عالمی خبریں

اپریل 15, 2026

کیئر اسٹارمر نے واضح کر دیا، برطانیہ ایران جنگ سے مکمل طور پر الگ رہے گا

لاہور۔ ڈیلی ٹائمز( ویب ڈیسک)عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ اُس وقت سامنے آیا جب برطانیہ نے واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ کسی بھی صورت ایران جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، چاہے اس کے لیے کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ڈالا جائے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کی پالیسی کھل کر بیان کی۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران جنگ میں شامل ہونا برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں، اس لیے اس آپشن پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اگرچہ انہوں نے دباؤ ڈالنے والے فریق کا براہ راست نام نہیں لیا، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ یہ اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب ہو سکتا ہے، جنہوں نے حالیہ بیان میں امریکا اور برطانیہ کے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کا عندیہ دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد برطانیہ پر ایران جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم کیئر اسٹارمر نے واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی سیاسی یا معاشی بلیک میلنگ کو قبول نہیں کریں گے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ جنگ برطانیہ کی نہیں اور نہ ہی اس میں شامل ہونا ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر طے کرے گی اور قومی مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر ایک اہم پیغام ہے کہ بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود خودمختار فیصلے ممکن ہیں۔ اگرچہ ایران جنگ کے حوالے سے حالات اب بھی غیر یقینی ہیں، لیکن برطانیہ کا واضح مؤقف خطے میں سفارتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی اہم ممالک کو اس جنگ میں اپنے ساتھ شامل ہونے بارے کہہ رہے ہیں لیکن ان کو کہیں سے بھی مثبت جواب نہیں آیا اس صورتحال پر کئی بار ٹرمپ نے دھمکی آمیز ٹویٹ اور پریس کانفرنسز میں ذکر کیا ہے اسی تناظر میں آج برطانوی وزیر اعظم نے دو ٹوک موقف بیان کیا ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے ویب ڈیسک کی طرف سے شائع کی گئی خبر

ڈیلی ٹائمز کے ویب ڈیسک کی طرف سے شائع کی گئی خبر

Shares