باجوڑ حملہ میں افغان طالبان کی گولہ باری، 2 بچوں سمیت 3 افراد شہید، پاک فوج کا بھرپور جواب

باجوڑ میں افغان طالبان کی گولہ باری، 2 بچوں سمیت 3 افراد شہید، پاک فوج کا بھرپور جواب

پاکستان

اپریل 15, 2026

افغان طالبان کی باجوڑ میں شہری آبادی پر حملہ، پاک فوج نے فوری جوابی کارروائی کی

اسلام آباد ڈیلی ٹائمز (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ میں ایک بار پھر کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں باجوڑ حملہ میں افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحدی علاقے کٹ کوٹ کے گاؤں ملک شاہین میں بلا اشتعال گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو معصوم بچوں سمیت تین افراد شہید ہو گئے جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ حملہ نہ صرف اچانک تھا بلکہ مکمل طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں افغان طالبان کی جانب سے شدت پسند عناصر کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوششیں بھی کی جا رہی تھیں، تاہم پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ناکامی کے بعد بوکھلاہٹ میں اس طرح کا باجوڑ حملہ کیا گیا۔

واقعے کے فوری بعد پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کی جانب سے فائرنگ کرنے والی گن پوزیشن کو تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور سرحد کے قریب موجود کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی آبادی نے اس افسوسناک باجوڑ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور یہ کھلی جارحیت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات خطے میں امن کے لیے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں، تاہم پاکستان کی سکیورٹی فورسز صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رہیں گے۔

واضح رہے یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ جنگ رکوانے کے سلسلے میں انتہائی اہم ایران دورہ پر ہیں ان کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود ہیں۔

Shares