سینئر تجزیہ کاراور صحافی ذوالفقار راحت نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان جیل سے نکل آئیں گےاورعید گھر کریں گے ۔اسی سال میں الیکشن بھی ہونگے
لاہور۔ ڈیلی ٹائمز(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ذوالفقار راحت نے یوٹیوب پروگرام میں میزبان نعیم ثاقب سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ کسی صاحب نے فیلڈمارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات کروا دی ہے جس میں غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں،ماضی میں جو کچھ ہوا ہےاسے چھوڑنے پر دونوں راضی ہو گئے ہیں اور2026الیکشن کا سال ہوگا۔
پروگرام کے میزبان نعیم ثاقب نے سوال کیا کہ ان ساری باتوں میں ایک بڑی خوبصورت بات تھی کہ ایک شخص لیڈر جو امت مسلمہ کی بات کرتا تھاان کو اکٹھا کرنے کی بات کرتا تھااس کو آپ نے جیل میں ڈالا ہوا ہے،میزبان نے وضاحت کرتے کہا کہ آپ سے مراد ’’ٹرمپ ‘‘نے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔
اس پر سینئر تجزیہ ذوالفقار راحت نے کہاکہ میرا خیال ہے کچھ انٹرنیشنل عوامل شامل ہیں۔ پروگرام کے میزبان نعیم ثاقب نےکہاکہ کوئی شک نہیں اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کا گراف مئی 2025میں انڈیا سے جھڑپ کے بعد بہت بلند ہوا ہے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوم کہتی ہے کہ جو حکمران ہمارے اوپر بیٹھے ہیں یہ فارم 47والے ہیں
میزبان نے کہا کہ اگر ایک مقبول ترین لیڈر باہر آ جائے اورہمارے سپہ سالار اکٹھے ہو جائیں تو پاکستان کہاں کا کہاں چلے جائے۔
اس پر ذوالفقار راحت نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ ہوچکا ہے یہ آپ کو خبر دے رہا ہوں میں نے یہ بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی تھی،میں نے کل پرسوں اس پر اپنا پوڈ کاسٹ کرنا تھالیکن میں آپ کو یہ خبر دے رہا ہوں کہ عمران خان کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کو ادراک ہو چکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی واحد پروڈکٹ ہے جو پوری دنیا میں بیچی جا سکتی ہے
ان کوادراک ہو چکا ہے کہ پوری قوم کو اکٹھا اور دنیا میں پاکستان کو لیڈ کر سکتا ہےجو امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے،سینئر تجزیہ کار کاکہناتھا کہ غلط فہمی تھی ،بڑا ظلم ہوا،رجیم چیلنج اور اس کے بعد پاکستان نے بڑا بلیڈ کیا ہے،اداروں کو بھی نقصان ہواہمارے سیاسی ایلیٹ کو بھی نقصان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف پاپولر پارٹی ہے پاپولر لیڈر ہے اوردوسری طرف پاکستان کا مضبوط ادارہ ہے،دونوں کے ڈیڈلاک نے پاکستان کا نقصان کیا ہے،اب اعلیٰ حکام کو یہ ادراک ہو چکا ہے،ان کاکہناتھا کہ میں اس کو ڈیل نہیں کہوں گا معاملات طے ہو گئے ہیں ،اگلے دو ہفتوں میں عمران خان باہر ہوں گے عید کی نماز گھر پڑھیں گے۔
پروگرام کے میزبان نے حیرانگی سے سوال کیا کہ عمران خان عید گھر کریں گے
اس پر ذوالفقار راحت نے کہاکہ جی عمران خان عید گھر کریں گے جیل سے نکل آئیں گےیہ میں ایسے ہی کہہ رہا ہوں جیسے میں آپ کے دفتر آیا ہوں ،آپ مجھے سامنے نظر آ رہے ہیں میں یہ اتنے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چیزیں طے ہو گئی ہیں
فیلڈمارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی کی بالمشافہ گفتگو ہوئی ہے،گپ شپ ہوئی ہے،کسی صاحب نے یہ ملاقات کروادی ہے اور غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں،ماضی میں جوکچھ ہوا ہےاسے چھوڑنے پر دونوں راضی ہو گئے ہیں،2026الیکشن کا سال ہوگا، صاف شفاف الیکشن ہوں گے
میزبان نے سوال کیا کہ 2026میں الیکشن ہوں گے،ذوالفقار راحت نے کہاکہ 2026میں الیکشن ہوں گے
آپ یہ سوال کریں کہ موجودہ صاحبان کہاں ہوں گے تو یہ کہیں ہوں گے۔ ذوالفقار راحت کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے جون آخری بجٹ ہے،جولائی میں اگر انٹرنیشنل حالات رک گئے ،رک جائیں گے ظاہر کتنا عرصہ چلیں گے،ابھی تو عالمی صورتحال پر توجہ مرکوز ہے تو اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت سی چیزیں التوا میں چلی گئی ہیں ایک 28ویں ترمیم ہے اور ایک بجٹ ہے۔دوچیزیں کروائی جائیں گی۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ جولائی سے ملک میں ایک سخت احتساب ہوگا، میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں دیکھیں دو چیزیں ہیں چارلوگوں کا گھر ہو، اگر آمدن آپ کی 2لاکھ ہو تو خرچ 10لاکھ ہو جائے،توچار لوگوں کا گھر نہیں چلتا یہ تو25کروڑ کا ملک ہے ،56ارب روپے کا قرضہ لے کر روزانہ یہ ملک چلا لیں گے،یہ ممکن نہیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ جب کشتی ڈوب رہی ہوتی ہے تو آپ دو کام کرتے ہیں یا تو آپ اس کا بوجھ کم کرتے ہیں یا اس کے سوراخ بند کرتے ہیں ، یہاں پر سوراخ بھی بڑے ہو رہے ہیں اور بوجھ بھی ڈالا جا رہا ہے
ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کی فورسز اس ملک کی سب سے بڑی سٹیک ہولڈر ہیں ، ملک کے مالی حالات خراب ہوتے ہیں تو ملک کی سکیورٹی کمپرومائز ہو جاتی ہےملک چل نہیں سکتا۔ ذوالفقار راحت کا کہنا تھا کہ الارم کھڑک گئے ہیں اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ملک جام ہو گیا ہے ملک نہیں چل رہا
انہوں نے کہاکہ عمران خان کے باہر آنے کی وجہ کیا ہے،میڈل کلاس عمران خان کی طاقت ہے یہ وہ میڈل کلاس تھی جو پیپلزپارٹی، ن لیگ سے ناراض تھی وہ ووٹ بھی نہیں ڈالتے تھے وہ سسٹم سے لاتعلق ہو گئے تھے،عمران خان آیا اس نے ان سب لوگوں کو گھروں سے نکالا اور متحرک کیا ان کو اعتماد میں لیا اور کہا آپ ووٹ ڈالیں یہ ملک آپ کا ہے اور اس میں آپ کا حصہ ہے
سینئر تجزیہ کار نے کہاکہ 8فروری آخری عوامی ری ایکشن تھا،8فروری کے بعد جب آپ نے اس مڈل کلاس کو چھتر مار کر گھروں میں پھینک دیا کہ آپ کا کیا تعلق ہے اس ملک کے ساتھ تو وہ مایوس ہو گئے،ان کا کہنا تھا کہ 110بلین ڈالر اس مڈل کلاس نے اٹھایا اور دبئی لے گئے،ساڑھے 8ہزار بزنس دبئی سیٹ اپ ہوا،رئیل اسٹیٹ کے اندر 20بلین ڈالر پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر لے گئے،باقی اوورسیز لے گئے،مجموعی طور پر 150ارب ڈالرآپ ایک ایک ارب ڈالر کیلئے رو رہے ہیں، 150ارب ڈالر آپ کا دبئی چلا گیا،جو یہاں لوگ تھے وہ لاتعلق ہو گئے۔
ذوالفقار راحت نے کہاکہ ہائبرڈ سسٹم میں تین طرح کے طبقات پیدا ہوتےہیں ،ایک طبقہ بینیفشری ہوتا ہے جو بہت مینارٹی میں ہوتا ہے،دوسری کلاس وہ ہوتی ہے جو نظام کو مزاحمت کرتی ہے،وہ بڑی اکثریت میں ہوتی ہے، تیسری کلاس وہ ہوتی ہے جو کہتی ہے کہ ہم کر تو کچھ سکتے نہیں وہ لاتعلق ہو کر بیٹھ جاتی ہے۔
یہ دو کلاسیں اتنی بڑی ہیں جو سسٹم سے لاتعلق ہو گئی ہیں،99فیصد لوگوں کو پورے نظام کے اندر ان پٹ ہی کوئی نہیں ہے یہ سوسائٹی جام ہو گئی ہے تنزلی کی طرف جارہی ہےمڈل کلاس کسی سوسائٹی کا پلر ہوتی ہے جہاں مڈل کلاس ختم ہوجائے سوسائٹی دھڑم کرکے زمین بوس ہو جاتی ہے۔ ساری مڈل کلاس سائیڈ پر ہو گئی کہ آپ ملک چلا لیں کچھ جو پیسے باہر لے جاسکتے تھے وہ باہر لے گئے ہیں جو یہاں تھے وہ گھر میں بیٹھ گئے ہیں۔
