عوام کی محافظ افواج
قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آتے ہیں جب آزمائش کے وقت یہ جانچنے کا موقع ملتا ہے کہ ان کے حقیقی محافظ اور ہمدرد کون ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی انہی لمحوں سے بھری پڑی ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا دشمن کی جارحیت، قومی بحران ہوں یا داخلی مشکلات—ہر موقع پر افواجِ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید ادارہ ہیں جو ہر گھڑی اپنی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔
تازہ ترین مثال حالیہ اعلان ہے جس میں فوجی افسران اور جوانوں نے اپنی ایک دن کی تنخواہ متاثرین کی بحالی اور امدادی کاموں کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم نہ صرف ایثار اور قربانی کی درخشاں جھلک ہے بلکہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ افواج پاکستان کے دل اپنی قوم کے ساتھ ایک ہی دھڑکن میں دھڑکتے ہیں۔
مشکل وقت کا سہارا
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو جغرافیائی لحاظ سے متنوع خطے پر مشتمل ہے۔ کبھی زلزلے کی تباہ کاریاں، کبھی سیلاب کا قہر اور کبھی برفانی تودوں کا گرنا—یہ سب آزمائشیں عوام کو جانی و مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر عام شہریوں کی نگاہیں سب سے پہلے اپنی مسلح افواج کی طرف اٹھتی ہیں۔
کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ یہی وہ ادارہ ہے جو محض ہتھیاروں کے زور پر نہیں بلکہ خدمت، قربانی اور انسانیت کے جذبے کے تحت مدد کو پہنچتا ہے۔ حالیہ اعلان بھی اسی جذبے کا عکاس ہے۔ اپنی ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرنا محض مالی مدد نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ افواج اپنے عوام کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہیں۔
کے پی کے میں ریسکیو آپریشنز
خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقے ہمیشہ قدرتی آفات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے جب کئی بستیاں اجاڑ دیں، لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوگئے اور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی، تو سب سے پہلے جو دستے حرکت میں آئے وہ پاک فوج کے تھے۔ جوانوں نے کاندھوں پر بچوں کو اٹھایا، بزرگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا اور خواتین کو سہارا دیا۔
ایسے مناظر کسی افسانے کا حصہ نہیں بلکہ حقیقت ہیں جو ہر شہری کی آنکھوں نے دیکھی۔ فوج کے ہیلی کاپٹر دور دراز وادیوں میں اترتے رہے، متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور ادویات پہنچاتے رہے۔ ندی نالوں کے پل بہہ گئے تو انجینئرنگ کور نے عارضی راستے بنا کر مواصلات بحال کیے۔ یہ وہ خدمت ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
قربانی کا استعارہ
جب کوئی فوجی اپنی ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرتا ہے تو بظاہر یہ ایک چھوٹا قدم لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے قربانی اور ایثار کا پہاڑ کھڑا ہے۔ یہ تنخواہیں انہی جوانوں کی ہیں جو دن رات سرحدوں پر کھڑے رہتے ہیں، کبھی برف پوش چوٹیوں پر اور کبھی تپتے صحرا میں۔ یہ وہ سپاہی ہیں جن کے پاس اپنی ضروریات بھی محدود ہیں مگر جب بات قوم کی ہو تو وہ اپنے حق کو قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل روح ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھتا ہے۔
عوام اور فوج کا رشتہ
پاکستانی عوام اور افواج کے درمیان تعلق محض ایک ادارہ جاتی تعلق نہیں بلکہ ایک جذباتی اور روحانی رشتہ ہے۔ عوام اپنے جوانوں کو بیٹوں کی طرح دیکھتے ہیں اور جوان عوام کو اپنے گھر والوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب فوجی جوان متاثرین کے درمیان پہنچتے ہیں تو آنکھوں میں روشنی اور دلوں میں امید پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے کوئی دوسرا ادارہ شاید فراہم نہ کرسکے۔ افواج پاکستان کا کردار اس بات کی ضمانت ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، قوم کبھی تنہا نہیں ہوگی۔
امدادی سرگرمیاں—خاموش خدمت
فوج کے ریسکیو آپریشنز اکثر خبروں کی سرخیوں میں آجاتے ہیں مگر ان کے علاوہ ہزاروں ایسے کام ہیں جو خاموشی سے جاری رہتے ہیں۔ کبھی مفت میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں، کبھی متاثرہ علاقوں میں راشن تقسیم کیا جاتا ہے، کبھی تعلیمی اداروں کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ کے پی کے میں حالیہ دنوں فوج نے نہ صرف لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ عارضی شیلٹر بھی قائم کیے، خوراک اور ادویات فراہم کیں اور متاثرین کو یقین دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
خراجِ تحسین
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی افواج کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کریں۔ یہ وہ ادارہ ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہماری حفاظت کرتا ہے، اور جب قدرتی آفات آتی ہیں تو اپنی جیبوں سے مدد فراہم کرتا ہے۔ ایسے وقت میں عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فوجی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، اپنے وسائل کے مطابق متاثرین کی مدد کریں اور یہ ثابت کریں کہ پاکستان ایک خاندان ہے جس کا ہر فرد دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہے۔
افواج پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کے دلوں کی بھی محافظ ہیں۔ ایک دن کی تنخواہ عطیہ کرنے کا فیصلہ دراصل ایک پیغام ہے کہ فوج اور عوام ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلکہ ایک ہی جسم کی مانند ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے دلوں میں یہ عہد کریں کہ جس طرح فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے، ہم بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہی اتحاد اور یہی یکجہتی پاکستان کو ہر آزمائش سے سرخرو کرے گی
بلاگر۔ فیاض مدثر
