ماہرینِ صحت کی تحقیق اور عوامی شعور کی ضرورت
صحت مند زندگی ہر انسان کی خواہش ہے مگر یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہی ہماری صحت کی بنیاد بنتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والی جدید تحقیقات واضح کر چکی ہیں کہ کئی ایسی غذائیں ہیں جو بظاہر ذائقے میں لذیذ اور دل کو بھاتی ہیں
لیکن طویل المدت استعمال کے بعد یہ سنگین بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری روزمرہ خوراک میں انہی غذاؤں کا استعمال بڑھ رہا ہے اور نتیجتاً موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں عام ہو گئی ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان غذاؤں پر روشنی ڈالیں گے جو صحت کے لیے مضر ثابت ہوتی ہیں۔
فاسٹ فوڈ: وقتی تسکین، دائمی نقصان
برگر، پیزا، شوارما اور فرائیڈ چکن جیسی فاسٹ فوڈ اشیاء دنیا بھر میں بے حد مقبول ہیں۔ یہ غذائیں وقتی طور پر بھوک مٹاتی ہیں اور ذائقے کی تسکین دیتی ہیں، مگر ان میں موجود زیادہ چکنائی اور نمک صحت کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ماہرین کے مطابق فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال کولیسٹرول بڑھانے، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
مشروبات: میٹھا زہر
کولا ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور پیکٹ والے جوس بظاہر تازگی بخشتے ہیں مگر درحقیقت یہ جسم کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ان میں موجود زیادہ شوگر موٹاپے اور شوگر کی بیماری کا بڑا سبب ہے۔ علاوہ ازیں ان مشروبات میں استعمال ہونے والے کیمیکل دانتوں کو خراب کرتے ہیں اور گردوں کے مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک بوتل کولڈ ڈرنک پینے والا شخص شوگر اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ رکھتا ہے۔
بیکری مصنوعات: خالی کیلوریز
کیک، پیسٹری، بسکٹ اور ڈونٹس ہر عمر کے افراد میں مقبول ہیں۔ لیکن ان میں شامل ریفائنڈ فلور (میّدہ)، چینی اور مصنوعی اجزاء جسم کو کوئی فائدہ نہیں دیتے بلکہ صرف “خالی کیلوریز” مہیا کرتے ہیں۔ یہ اشیاء نہ صرف وزن بڑھاتی ہیں بلکہ جسم میں انسولین کی مقدار کو متاثر کر کے ذیابطیس کے امکانات کو بھی بڑھاتی ہیں۔
پراسیسڈ فوڈ: چھپا ہوا خطرہ
بازار میں دستیاب ڈبہ بند گوشت، ساسیجز، نوڈلز اور چپس کو آسانی اور ذائقے کی وجہ سے بہت کھایا جاتا ہے۔ ان مصنوعات میں موجود پریزرویٹوز اور سوڈیم کی زیادہ مقدار کینسر، معدے کے امراض اور گردوں کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے پراسیسڈ فوڈ کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور اس کے استعمال میں کمی کی تاکید کی ہے۔
زیادہ نمک اور چکنائی والی غذائیں
ہمارے ہاں کھانوں میں زیادہ نمک اور چکنائی کا استعمال عام ہے۔ اچار، نمکین بسکٹ، فرائیڈ اسنیکس اور دیسی گھی یا تیل میں تلے ہوئے پکوان وقتی طور پر لذیذ ضرور ہوتے ہیں لیکن یہ ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور فالج جیسے امراض کو دعوت دیتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق روزانہ نمک کی مقدار پانچ گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
مصنوعی مٹھائیاں اور ٹافی کینڈیز
مارکیٹ میں دستیاب ٹافی، کینڈیز اور مصنوعی مٹھائیاں خاص طور پر بچوں میں پسند کی جاتی ہیں۔ ان میں موجود مصنوعی رنگ اور کیمیکل نہ صرف دانتوں کو خراب کرتے ہیں بلکہ معدے اور جگر کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق مصنوعی رنگ بچوں میں الرجی اور دماغی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔
زیادہ چائے اور کافی
اگرچہ چائے اور کافی اعتدال میں پینا صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کا زیادہ استعمال معدے کے امراض، بے خوابی اور ذہنی دباؤ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ کیفین کی زیادتی دل کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے اور اعصابی نظام پر برا اثر ڈالتی ہے۔
ریڈ میٹ کا حد سے زیادہ استعمال
گائے اور بکرے کے گوشت کو مکمل طور پر نقصان دہ نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال کولیسٹرول اور یورک ایسڈ بڑھاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریڈ میٹ کا ہفتے میں دو سے تین بار سے زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہیے، ورنہ یہ دل اور گردوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
پیکٹ والے اسنیکس اور چپس
مارکیٹ میں دستیاب چپس اور اسنیکس خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کی پسندیدہ چیز ہیں۔ ان میں شامل تیل، نمک اور مصنوعی اجزاء صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔ یہ نہ صرف وزن میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ معدے اور آنتوں کے امراض بھی پیدا کرتے ہیں۔
صحت مند متبادل کی ضرورت
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان مضر صحت غذاؤں سے بچنے کے لیے صحت بخش متبادل تلاش کریں۔ کولڈ ڈرنکس کی جگہ لیموں پانی یا تازہ جوس، فاسٹ فوڈ کی جگہ گھر کے بنے سینڈوچ یا دال سبزی، بیکری مصنوعات کی جگہ پھل اور خشک میوہ جات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح پراسیسڈ فوڈ کے بجائے تازہ گوشت اور سبزیاں زیادہ فائدہ مند ہیں