ذیابطیس (شوگر) دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جسے اکثر “خاموش قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں کروڑوں افراد اس مرض کا شکار ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں شوگر کے مریضوں کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ چونکہ یہ مرض براہِ راست خوراک اور طرزِ زندگی سے جڑا ہے، اس لیے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خوراک کا انتخاب نہایت حساس معاملہ ہے۔ صحیح غذا نہ صرف شوگر کو قابو میں رکھتی ہے بلکہ اس کے مضر اثرات سے بھی بچاتی ہے۔
خوراک اور شوگر کا تعلق
ذیابطیس کی بنیادی وجہ جسم میں انسولین کی کمی یا اس کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اگر مریض اپنی خوراک میں احتیاط کرے تو وہ اس مرض پر کافی حد تک قابو پا سکتا ہے۔ غیر متوازن غذا جہاں شوگر کو بڑھاتی ہے، وہیں صحت مند اور غذائیت سے بھرپور کھانے خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے مفید غذائیں
سبزیاں: قدرتی علاج
سبزیاں فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں اور ان میں شوگر کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ پالک، میتھی، بند گوبھی، توری، کھیرا اور ٹماٹر ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہترین ہیں۔ یہ سبزیاں نہ صرف شوگر کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ وزن گھٹانے اور دل کو صحت مند رکھنے میں بھی مددگار ہیں۔
پھل: احتیاط کے ساتھ
پھل وٹامنز اور فائبر کا خزانہ ہیں لیکن کچھ پھلوں میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ شوگر کے مریضوں کو آم، کیلا اور انگور کم استعمال کرنے چاہئیں، جبکہ سیب، ناشپاتی، کینو، امرود اور اسٹرابیری جیسے پھل ان کے لیے زیادہ مفید ہیں۔ ان پھلوں میں موجود فائبر خون میں شکر کے بڑھنے کی رفتار کو کم کر دیتا ہے۔
پروٹین: توانائی کا ذریعہ
گوشت، مچھلی، انڈے اور دالیں پروٹین کے بہترین ذرائع ہیں۔ پروٹین جسم کو توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے۔ شوگر کے مریض اگر روزمرہ غذا میں دالیں اور مچھلی شامل کریں تو یہ ان کے لیے نہایت فائدہ مند ہوگا۔
اناج اور دالیں
ریشہ دار (whole grain) غذائیں جیسے جو، جئی، براؤن رائس اور گندم ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مفید ہیں۔ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں جس سے خون میں شوگر کی سطح تیزی سے نہیں بڑھتی۔ دالیں اور چنے بھی پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہیں، جو ہاضمے کو درست رکھتے ہیں۔
دودھ اور ڈیری مصنوعات
کم چکنائی والا دودھ، دہی اور پنیر ذیابطیس کے مریضوں کے لیے موزوں ہیں۔ ان میں کیلشیم اور پروٹین پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور توانائی فراہم کرتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کو کن غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے؟
میٹھی اشیاء
مٹھائی، کیک، پیسٹری، ڈونٹس اور چاکلیٹ جیسی چیزیں خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے بڑھا دیتی ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو ان سے سخت پرہیز کرنا چاہیے۔
کولڈ ڈرنکس اور میٹھے مشروبات
کولا ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور پیکٹ والے جوس شوگر بم کہلاتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر تازگی دیتے ہیں لیکن خون میں شکر کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیتے ہیں۔
پراسیسڈ فوڈ
بازاری نوڈلز، ڈبہ بند گوشت، چپس اور ساسیجز میں سوڈیم اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے جو شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
زیادہ چکنائی والے کھانے
فرائیڈ آئٹمز جیسے سموسے، پکوڑے اور دیسی گھی میں تلی ہوئی اشیاء نہ صرف وزن بڑھاتی ہیں بلکہ دل کے امراض کا بھی خطرہ بڑھاتی ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے خوراکی اصول
-
چھوٹے مگر بار بار کھانے: دن میں پانچ سے چھ بار ہلکی غذا کھانا بہتر ہے بجائے اس کے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ کھایا جائے۔
-
پانی کا استعمال بڑھائیں: پانی خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے اور جسم کو تروتازہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
-
نمک کم استعمال کریں: زیادہ نمک بلڈ پریشر اور دل کے مسائل کو بڑھاتا ہے، اس لیے نمک کا استعمال محدود ہونا چاہیے۔
-
چکنائی سے پرہیز کریں: تلی ہوئی چیزوں کے بجائے ابلی ہوئی یا گرلڈ خوراک استعمال کریں۔
-
ورزش کو معمول بنائیں: صرف خوراک ہی نہیں بلکہ روزانہ ورزش اور چہل قدمی بھی شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے مریض اگر اپنی خوراک اور طرزِ زندگی میں احتیاط برتیں تو وہ ایک عام اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ ڈاکٹرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خوراک کے انتخاب میں اعتدال سب سے اہم ہے۔ نہ تو کسی چیز کا مکمل ترک کرنا ضروری ہے اور نہ ہی کسی ایک غذائی عنصر کا حد سے زیادہ استعمال۔
