وزیر اعظم پاکستان فلسطینیوں کی لاشوں پر امن معاہدے ناقابل قبول ہیں۔

پاکستان

جماعت اسلامی لاہور کا ہفتہ یکجہتی فلسطین کا آغاز، 4 اکتوبر کو تاریخ ساز ”غزہ مارچ” ہوگا۔
لاہور۔ بیوروچیف (فیاض مدثر) حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش بھی کی توقوم کا شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے کبھی خیر خواہ نہیں ۔ہو سکتے۔ امیرجماعت اسلامی لاہوضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا لٹن روڈ پر پریس کانفرنس سے خطاب۔

 تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے لٹن روڈ پر ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی لاہور کی جانب سی آج سے ہفتہ یکجہتی فلسطین بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔

اس ہفتے کے دوران لاہور بھر کے تمام اضلاع اور زونز میں غزہ فلسطین کیمپس لگائے جائیں گے جبکہ سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیزکی سطح پر مختلف سرگرمیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان نسل کو فلسطین کاز سے جوڑا جا سکے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے اعلان کیا کہ4 اکتوبر 2025 بروز ہفتہ کولاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا ”غزہ مارچ”کیا جائے گا

جس میں ہزاروں شہری قافلوں کی صورت میں شام5:30 بجے بھیکے وال موڑ، وحدت روڈپہنچیں گے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مارچ کی قیادت کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے۔پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری اظہر بلال،ناظم غزہ مارچ خالد احمد بٹ،عبدالعزیز عابداور دیگر انتظامی کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی لاہور نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کے فلسطین مخالف بیس نکاتی منصوبیکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اس منصوبے کی تائیدناقابل برداشت اورفلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کے نام پر ایسی کوئی بھی دستاویز جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشو ں پرجا رہی ہو، اس کی تحسین ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونیکے مترادف ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ کوئی بھی طاقت زور زبردستی سے ایک مظلوم قوم کا حق نہیں چھین سکتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے کبھی خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی توقوم کا شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ جماعت اسلامی اس بیان کو کسی صورت قبول نہیں کرتی

Shares