برمنگھم کے ایجبیسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انڈیا نے انگلینڈ کو 337 رنز سے شکست دے دی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انڈیا نے انگلینڈ کو ایجبیسٹن میں شکست دی ہے۔ انگلینڈ کو دوسری اننگز میں 608 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف اور انڈیا کے ان فارم بولرز آکاش دیپ اور محمد سراج کا سامنا تھا۔
انڈیا کی جانب سے جہاں کپتان شبھمن گِل نے پہلی اننگز میں 269 اور دوسری اننگز میں 161 رنز بنائے وہیں آکاش دیپ نے پہلی اننگز میں چار اور دوسری اننگز میں نہایت شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ وکٹیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل لیں۔
انڈیا کی جانب سے بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی انتہائی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ جہاں انڈیا کے بولرز نے انگلش پلیئرز کو جم کر کھیلنے نہیں دیا وہیں جب انڈین کرکٹ ٹیم کے بلے باز بیٹنگ کے لیے میدان میں اُترے تو انگلینڈ کے بولرز کا سامنا نہایت نپے تُلے انداز میں کیا۔
انگلینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں ہیری بروک اور جیمی سمتھ کی جانب سے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا، ہیری نے 158 رنز اور جیمی نے 184 رنز سکور کیے۔
تاہم انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم انڈیا کے پہلی انگز کے 587 رنز کے جواب میں 407 رنز بنا کر آوٹ ہو گئی تھی۔
اسی طرح انڈیا نے اپنی دوسری انگز میں 427 رنز بنائے اور 608 رنز کے ہدف کا بوجھ انگلش ٹیم نہ اٹھا سکی۔
ایجبیسٹن میں انڈین کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر جشن جاری
انڈین ٹیم کی اس کامیابی کے بعد انڈین مداح سوشل میڈیا پر جہاں کپتان شبھمن گل کی بیٹنگ کے گُن گاتے نظر آئے وہیں آکاش دیپ کی عمدہ بولنگ کی بھی تعریف کی جا رہی ہے۔
انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وراٹ کوہلی نے ایکس پر انڈیا کے ایجبسٹن میں کامیابی کے بعد لکھا کہ ’ایجبسٹن میں انڈیا کی زبردست کامیابی۔ بے خوف انداز میں کھیلے اور انگلینڈ کو دیوار سے لگاتے رہے۔ شبھمن نے بلے سے اور میدان میں شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا۔ سراج اور آکاش نے اس پچ پر جس طرح بولنگ کی اُن کے ذکر کے بغیر تو بات مکمل نہیں ہو سکتی۔
انڈین کرکٹ کے لیجنڈ سچن تندولکر نے بھی میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’سب سے بڑی تبدیلی جو میں نے سراج میں دیکھی ہے وہ گیند کو صحیح جگہوں پر پچ کرنے کی اور مستقل مزاجی ہے۔ ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے چھ وکٹیں ملیں۔ آکاش دیپ نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا اور زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘
انھوں نے انگلش پلئیرز کی بھی تعریف کی اور لکھا کہ ’بروک اور سمتھ کے درمیان شراکت داری کی وجہ سے انڈین کرکٹ ٹیم پر دباؤ بنا دونوں کی جانب سے جوابی حملہ کیا گیا اور انگلینڈ کو انڈیا کے سکور کے بہت قریب لانے کی کوشش کی گئی جس کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔‘
انڈیا میں سوشل میڈیا پر آج کل ’دل دل شبھمن گِل‘ کا نیا نعرہ گونج رہا ہے جو بظاہر ’دل دل پاکستان‘ سے ملتا جلتا ہے۔
دراصل انڈین ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شبھمن گِل نے انگلینڈ کے دورے پر دوسرے ٹیسٹ میں ایسا کارنامہ انجام دیا کہ جو اس سے قبل نہ تو بیٹنگ لیجنڈ گاوسکر کے حصے میں آیا اور نہ ہی انڈین کرکٹ میں ’بھگوان‘ کا درجہ رکھنے والے اور سب سے زیادہ سنچریاں اور رنز سکور کرنے والے سچن تندولکر کو یہ افتخار حاصل ہو سکا۔
کھیل اور بطور خاص کرکٹ کی تمام ویب سائٹس شبھمن گل کے ریکارڈز سے بھری پڑی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کا چرچا ہے
